مالاکنڈ پولیس کو انسدادِ دہشت گردی کی تربیت

Image caption اس ٹریننگ کی بدولت پولیس فورس اب دہشت گردی سے موثر انداز میں نمٹ سکے گی:ڈی آئی جی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 165 پولیس اہلکاروں نے کاونٹرٹیریریزم سینٹر کھاریاں میں غیر روایتی جنگ کے مخصوص تدویراتی کاروائیوں و حربی تکنیک میں تربیت حاصل کی ہے۔

پولیس اہلکاروں نےگھات، ردِگھات، بغیر ہتھیاروں کے لڑائی، دہشت گردوں کا آبادی میں تلاش و محاصرہ، چیک پوسٹوں کا قیام اور کاروائی کے علاوہ تمام قسم کے چھوٹے ہتھیاروں بشمول سب مشین گن، رائفل جی تھری، لائٹ مشین گن اور دستی بم کے استعمال میں بھی خصوصی مہارت حاصل کی۔

مالاکنڈ ڈویژن میں فوج کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت اور استعداد کو بڑھانے کاکام فوج کے زیر نگرانی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس سلسلے میں غیر روایتی جنگ وجدل کی خصوصی تربیت کا اہتمام کاونٹر ٹیریریزم سینٹر پبی کھاریاں میں کیا جاتا ہے جہاں سے اب تک پولیس کے 1600 سے زائد جوان تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ یہ تربیتی پروگرام تین ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں کچھ عرصے سے فوجی قوت سے کام لیا جارہا ہے تاہم اب اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا ہے کہ ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک کرنے کے لیے پولیس کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور حال ہی میں پولیس کو دی جانے والی یہ تربیتی پروگرام بھی اس سلسلے کی کھڑی ہے۔

ڈی آئی جی مالاکنڈ عبداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹریننگ کی بدولت پولیس فورس اب دہشت گردی سے موثر انداز میں نمٹ سکے گی اور دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے یہ ٹریننگ نہایت موثر ثابت ہوگی۔

تربیت حاصل کرنے والے ایک اہلکار گل زمین نے بی بی سی کو بتایا کہ تعداد، اسلحے اور وسائل کی کمی کے باوجوددہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے کوششوں میں مہارت کے فقدان کو محسوس کرتے ہوئےنئی حکمت عملی پر عمل درامد شروع کردیا گیا ہے جن سے وہ بہت خوش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے لیے یہ تربیت انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس ٹریننگ سے حاصل ہونے والے مہارت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی فوائد حاصل ہونگے۔

تربیت حاصل کرنے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یہ ٹریننگ کافی نہیں ہے اور انہیں مزید تربیت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ان الات کی تربیت نہیں دی گئی ہے جن کی ہمیں اشد ضرورت ہے جس میں کسی گاڑی یا انسانی جسم کے ساتھ باندھے ہوئے دھماکہ خیز مواد یعنی خودکش بمبار کی بہتر طریقے سے نشاندہی کے لیے ایک مخصوص تکنیک کی ضرورت ہوتی ہے۔

سوات میں موجود آئی ایس پی آر کے ملاکنڈ ڈویژن کے ترجمان کرنل عقیل احمد ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ پاک فوج پولیس کی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے استعداد کار کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہی ہے اور اس حوالے سے پولیس کو مختلف طرح کی تربیت فراہم کی جارہی ہیں۔

اسی بارے میں