مشرف پر غداری کا مقدمہ: کب کیا ہوا؟

مارچ2014

تصویر کے کاپی رائٹ other

31 مارچ: اسلام آباد میں خصوصی عدالت میں جاری غداری کے مقدمے میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس طاہرہ صفدر نے آئین شکنی کے پانچ الزامات پر مشتمل فردِ جرم پڑھ کر سنائی تاہم ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے خود پر عائد الزامات مسترد کر دیے۔

27 مارچ: پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب مشرف کے وکیل کے رویے سے ناراض ہو کر مقدمے کی سماعت سے اٹھ کر چلے گئے۔ تاہم بعدازاں عدالتی حکم میں کہا گیا کہ وہ اس مقدمے سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔

14 مارچ: خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور اُنہیں 31 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ملزم آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے سے انکار کریں تو اُنھیں گرفتار کر لیا جائے۔

11 مارچ: غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے کہا کہ موجودہ سکیورٹی حالات میں وہ ملزم کو عدالت میں پیش ہونے کا نہیں کہہ سکتی۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ وہ ملزم کی عدالت میں 14 مارچ کو بحفاظت پیشی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

10 مارچ: پاکستانی وزارت داخلہ کو خفیہ اداروں سے موصول ہونے والی معلومات میں اس خطرے کی نشاندہی کی گئی کہ پرویز مشرف کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح سکیورٹی اداروں کے اندر موجود شدت پسند عناصر کی طرف سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

7 مارچ: خصوصی عدالت نے اس عدالت کی تشکیل کے طریقۂ کار کے خلاف اور بینچ میں موجود ججوں کے ملزم کے خلاف مبینہ تعصب کے حوالے سے پرویز مشرف کی دو درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

4 مارچ: پرویز مشرف کے وکلا نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں امن وامان کی تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر اُن کے موکل غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

فروری2014

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

21 فروری: خصوصی عدالت نے غداری کے مقدمے کو فوجی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ خصوصی عدالت کو مشرف کے خلاف مقدمہ سننے کا اختیار حاصل ہے اور یہ مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں، خصوصی عدالت ہی میں چلے گا۔

18 فروری: سابق فوجی صدر پرویز مشرف پہلی مرتبہ اپنے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں پیش ہوئے تاہم ان پر اس معاملے میں فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

11 فروری: سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ جب ایک ہی مقدمہ سول اور فوجی عدالتوں میں چل رہا ہو تو ملزم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جس عدالت میں چاہے اپنا مقدمہ منتقل کروا لے اور بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے کہ مشرف کا مقدمہ متعلقہ فورم میں بھجوایا جائے جو کہ فوجی عدالت ہی ہے۔

7 فروری: خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو 18 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور کہا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔

4 فروری: پرویز مشرف نے غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی طرف سے اُن کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

جنوری2014

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

31 جنوری: خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر کی بیرونِ ملک علاج کروانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے اُن کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

30 جنوری: پاکستان کی سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی جانب سے 31 جولائی سنہ 2009 کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی جس کے نتیجے میں غداری کے مقدمے میں ان کی یہ دلیل غیرموثر ہوگئی کہ انھیں 31 جولائی کے فیصلے میں سنا ہی نہیں گیا۔

28 جنوری: پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے سپریم کورٹ کے 14 رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 2007 میں ایمرجنسی ججوں کو ہٹانے کے لیے لگائی گئی تھی اور اگر ان پر غداری کا مقدمہ چلانا ہے تو پھر 12 اکتوبر 1999 سے آغاز کیا جائے۔

24 جنوری: راولپنڈی میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے میڈیکل بورڈ نے پرویز مشرف کی صحت سے متعلق رپورٹ خصوصی عدالت میں جمع کروا دی جس میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کو اینجیوگرافی اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

21 جنوری: غداری کے مقدمےکے پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ سابق فوجی حکمران کے خلاف دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے اور مشرف اس مقدمے میں دیگر افراد کے نام اور ثبوت بھی عدالت میں پیش کر سکتے ہیں جنھوں نے تین نومبر سنہ 2007 کے اقدامات میں اُن کا ساتھ دیا تھا۔

16 جنوری: پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے وکیل نے خصوصی عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کو علاج کے لیے فوری طور پر امریکہ منتقل کیا جائے۔

10 جنوری: خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں فوجداری قانون نافذ کرنے سے متعلق فیصلے میں کہا ہے کہ اس مقدمے میں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوگا۔

9 جنوری: عدالت نے پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعدحکم دیا کہ انھیں دل کی تکلیف نہیں اور وہ 16 جنوری کو حاضر ہوں۔

7 جنوری: پرویز مشرف کی صحت سے متعلق خصوصی عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کو عارضۂ قلب کے علاوہ سات مزید بیماریاں لاحق ہیں۔

2 جنوری: خصوصی عدالت میں پیشی کے لیے جاتے ہوئے دورانِ سفر علیل ہونے پر پرویز مشرف کو راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب میں داخل کروا دیا گیا۔

1 جنوری: پرویز مشرف سکیورٹی خدشات کے باعث غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

دسمبر2013

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

31 دسمبر: سابق فوجی صدر نے غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی جانے والی خصوصی عدالت کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی۔

30 دسمبر: اسلام آباد میں سابق صدر کے فارم ہاؤس کے قریب سے ایک ہفتے کے عرصے میں دوسری بار ’ناکارہ بارود‘ کے پیکٹ برآمد ہوئے۔

29 دسمبر: پرویز مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا اور ان کے خلاف آئین کے خلاف غداری کے الزامات سے پوری فوج ناراض ہے۔

23 دسمبر: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کی طرف سے غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق قائم کی گئی خصوصی عدالت، اس کے ججوں اور اس مقدمے کے پراسیکیوٹر کے خلاف دائر کردہ درخواستیں مسترد کر دیں۔

21 دسمبر: سابق فوجی حکمران جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے اپنے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے اختیارات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

20 دسمبر: پرویز مشرف نے ملک کے عوام سے اپنے نو سالہ دورِ حکومت میں کی گئی غلطیوں پر معافی مانگ لی۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جو بھی فیصلے کیے تھے وہ خلوصِ نیت سے کیے تھے اور اگر کچھ لوگوں کو ان کے فیصلے غلط لگتے ہوں تو اس کے لیے وہ معافی مانگتے ہیں۔

13 دسمبر: خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں 24 دسمبر کو طلب کر لیا۔

نومبر2013

تصویر کے کاپی رائٹ PID

20 نومبر: پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ غداری کے مقدمے میں حکومت کے پاس اتنے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پرویز مشرف کو اس مقدمے میں سزا ہو سکتی ہے۔

19 نومبر: حکومتِ پاکستان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس فیصل عرب، جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدرپر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت تشکیل دے دی۔

17 نومبر: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا کہ حکومت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمے کا آغاز کر رہی ہے۔

جون/جولائی 2013

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

3 جولائی: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی جلد مکمل کرے۔

27 جون: حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق ایک چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔

24 جون: پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت اس ضمن میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گی جس کے تحت تین نومبر 2007 کو اُس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز آئین کو معطل کر کے غداری کے مرتکب ہوئے تھے۔