’ای سی ایل پر مشرف کا نام نہ ہم نےڈالا نہ ہٹا سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption پرویز مشرف پاکستان کے پہلے فوجی حکمران ہیں جن پر غداری کے الزام کی فرد جرم عائد کی ہے

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے والی عدالت نے کہا ہے کہ سابق صدر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر وفاقی حکومت نے ڈالا ہے اور وہی اسے ہٹا سکتی ہے۔

سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے خصوصی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ وہ اپنی ماں کی تیمارداری کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں لہٰذا ان پر بیرون ملک سفر پابندی کو ختم جائے۔

اس سے قبل خصوصی عدالت نے پیر کے سابق فوجی حکمران پر فرد جرم عائد کی۔ تاہم ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور خود پر عائد الزامات مسترد کر دیے۔

پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد

خصوصی عدالت کے رجسٹرار عبد الغنی سومرو نے خصوصی عدالت کا فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں سابق صدر کا نام وفاقی حکومت نے ڈالا تھا اور وہی اُن کا نام ای سی ایل سے نکال سکتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم پرویز مشرف کا نام نہ تو خصوصی عدالت کے کہنے پر ای سی ایل میں درج کیاگیا اور نہ ہی وہ حکومت کو اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دینے کی مجاز ہے کیونکہ یہ عدالت خصوصی ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف رضا کارانہ طور پر عدالت میں پیش ہوئے ہیں اس لیے اُنھیں گرفتار نہیں کیاگیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم زیرِ حراست نہیں ہیں اس لیے اُن کی نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 15 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی۔