بنوں: انسدادِ پولیو مہم کی خاتون کارکن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان میں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا، قبائلی علاقوں اور کراچی میں انسداد پولیو مہم کے کارکنوں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والے اہل کاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جن میں لگ بھگ تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے انسداد پولیو مہم کی ایک خاتون ورکر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

مقامی پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بنوں شہر میں تھانہ کینٹ کی حدود میں سکڑی کے مقام پر پیش آیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق خاتون ورکر کے بیٹے نے اطلاع دی کہ ان کی والدہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

دوسری جانب مقامی افراد نے بتایا کہ خاتون ورکر اُن بچوں کو قطرے پلانے کے لیے گھر سے نکلی تھیں جنھیں پولیو مہم قطرے کے دوران قطرے نہیں پلائے جا سکے تھے اور نامعلوم حملہ آوروں نے انھیں نشانہ بنایا۔ تاہم انسداد پولیو مہم حکام کا کہنا ہے کہ باضابطہ طور پر انسداد پولیو کی کوئی بھی مہم جاری نھیں تھی، اور ہو سکتا ہے کہ خاتون اہلکار خود بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے گئی ہوں۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 23 مارچ کو انسداد پولیو مہم کی ایک خاتون کارکن کواغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

خاتون پشاور کے نواحی علاقے گلوزئی کی رہائشی تھیں۔ اہلِ علاقہ نے اس وقت بھی احتجاج کیا تھا جب نا معلوم افراد اسلحے کی نوک پر خاتون کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے۔

اس کے بعد خاتون کارکن کی لاش تھانہ داؤد زئی کی حدود میں کھیتوں سے ملی ہے۔

گذشتہ مہینے بھی نامعلوم افراد نے ایف آر ٹانک کے علاقے سے انسداد پولیو کے دو کارکنوں کو چار لیویز اہل کاروں سمیت اغوا کر لیا تھا۔ تمام چھ افراد کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔

پاکستان میں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا، قبائلی علاقوں اور کراچی میں انسداد پولیو مہم کے کارکنوں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والے اہل کاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جن میں لگ بھگ تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں