حزب اختلاف کی یوٹیوب پر پابندی کے خلاف قرارداد کی مخالفت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں 2012 میں اس وقت کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے یوٹیوب پر پابندی لگائی تھی

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر عائد پابندی ہٹانے سے متعلق قرارداد کی حکومت نے مخالفت کی ہے۔

منگل کو ایوانِ زریں یعنی قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے یوٹیوب پر پابندی فوری طور پر ہٹانے سے متعلق قرارداد پیش کی۔

یوٹیوب: پابندی ختم ہونے کی امیدیں؟

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یوٹیوب پر پابندی کی وجہ سے نوجوانوں کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یوٹیوب پر پابندی فوری طور پر نہیں ہٹائی جا سکتی۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہی پیغمبرِ اسلام کے بارے میں بنائی گئی توہین آمیز فلم یوٹیوب پر جاری ہونے کے بعد اس ویب سائٹ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ایک امریکی عدالت کی طرف سے یوٹیوب سے متعلق فیصلہ بھی آ چکا ہے اور حکومت اس کو مدنظر رکھتے ہوئے متنازع مواد ہٹا کر یوٹیوب کو دوبارہ کھول دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں فلم کے خلاف پرتشدد واقعات میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ املاک بھی کو نقصان پہنچایا گیا تھا

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل گوگل کمپنی کے نمائندے پاکستان آئے تھے لیکن اُن کی کسی بھی ذمہ دار افسر کے ساتھ ملاقات نہیں کروائی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ بیوروکریسی اس معاملے میں اپنی ذمہ داریوں نہیں نبھا رہی۔

پاکستان تحریک انصاف کی ہی رکن قومی اسمبلی شریں مزاری نے کہا کہ پابندیاں لگانے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ پابندی عائد ہونے کی وجہ سے اُس متنازع فلم کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ متنازع مواد کو فوری طور پر یوٹیوب سے ہٹا کر اس پر سے پابندی ختم کی جائے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ اس قرارداد میں استعمال کی گئی زبان مناسب نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر یوٹیوب سے پابندی نہیں ہٹا سکتی جس کے بعد اس قرارداد میں یہ لفظ استعمال کیا گیا کہ حکومت اگلے دو ماہ میں یوٹیوب پر عائد پابندی ختم کرے۔ بعدازاں یہ معاملہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ نجی کارروائی کے دن تک کے لیے موخر کر دیا گیا۔

سال 2012 میں جاری ہونے والی’انوسنس آف اسلام‘ یا ’اسلام کی معصومیت‘ نامی فلم کے خلاف پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

تشدد کے ان واقعات میں پاکستان میں 19 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

اسی دوران حکومتِ پاکستان نے یوٹیوب پر پابندی لگا دی تھی جو تاحال برقرار ہے۔

پابندی کے خلاف پانچ درخواستیں عدالتوں میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا کے کسی دوسرے مسلم ملک میں اس ویڈیو کی وجہ سے یوٹیوب بند نہیں: فریحہ عزیز

انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی رکن فریحہ عزیز لاہور ہائی کورٹ میں یوٹیوب پر پابندی کے حلاف دائر کردہ درخواستوں کی سماعت میں عدالتی معاون کا کردار نبھا رہی ہیں۔

فریحہ عزیز کے مطابق یوٹیوب پر عائد پابندی کے خلاف لاہور میں تین جبکہ پشاور اس سندھ ہائی کورٹ میں ایک ایک درخواست زیر سماعت ہے۔

فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس مسئلے کے حل کے لیے متفق نھیں، صرف یوٹیوب ہی نہیں بلکہ انٹرنیٹ پر بہت سی ویب سائٹس پر صارفین کی رسائی ممکن نہیں رہی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی دوسرے مسلم ملک میں اس ویڈیو کی وجہ سے یوٹیوب بند نہیں لیکن پاکستان اس معاملے کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں