کراچی پولیو مہم کا پہلا دن پر امن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کراچی کے ضلعی افسرِ صحت ظفر اعجاز کے مطابق یہ مہم تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہے گی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منگل کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کے دوران شہر کے پانچ میں سے چار اضلاع میں بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔

مہم کا پہلا دن مکمل طور پر پرامن رہا اور کہیں سے بھی تشدد کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

کراچی میں شروع ہونے والی یہ مہم نیشنل امیونائزیشن پرواگرام کا حصہ ہے جس کے تحت کراچی کے چار اضلاع میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جانے ہیں۔

کراچی کے ضلعی افسرِ صحت ظفر اعجاز کے مطابق یہ مہم تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس سلسلے میں کراچی کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ضلع وسطی کے علاوہ تمام اضلاع میں یہ مہم شروع کردی گئی ہے جبکہ ضلع وسطی میں یہ مہم دو روز بعد شروع کردی جائے گی۔‘

کراچی کے بچوں میں پولیو وائرس سے متاثر ہونے کے اعداد و شمار کے بارے میں ڈاکٹر ظفر اعجاز کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ سال کراچی میں آٹھ کیسز سامنے آئے تھے جب کہ اس سال اب تک ایک کیس سامنے آیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اکثر کیسز افغان خیمہ بستیوں والے علاقوں یا پھر ان علاقوں میں سامنے آتے ہیں جہاں ملک کے شمالی علاقوں سے لوگ آکر آباد ہورہے ہیں۔

ضلعی افسرِ صحت ظفر اعجاز نے بتایا کہ شہر کے جن علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتِ حال خراب ہے وہاں انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے منگل کو کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ڈاکٹر ظفر کے مطابق کچھ افراد اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے انکار بھی کردیتے ہیں جن سے پھر علاقے کے معززین کے ذریعے بات کی جاتی ہے اور انہیں تیار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک مشکل عمل ہے مگر آہستہ آہستہ اس مسئلے پر قابو پایا جا رہا ہے۔