’جاگ پنجاب، پاکستان جل رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہماری فوج پیشہ ور قاتلوں کی فوج نہیں: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ چھوٹے صوبوں میں اس وقت تک امن نہیں ہوسکتا جب تک ملک کے سب سے بڑے صوبے میں دہشت گردوں کو پناہ ملنا بند نہیں ہوجاتی۔ ’ابھی تک ہماری اپنی جنگ ختم نہیں ہوئی اور آپ اپنے مشیروں کے مشورے پر دوسروں کی جنگ میں چھلانگ لگانے جا رہے ہیں۔‘

بلاول بھٹو زرداری جمعے کوگڑھی خدا بخش میں پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 35 ویں برسی کے جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔

جمعے کوگڑھی خدا بخش میں پیپلز پارٹی کی قیادت ایسے وقت میں اکٹھی ہوئی جب حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے مذاکرات جاری ہیں اور شامی باغیوں اور بحرین کو پاکستان کی عسکری مدد کی باز گشت ہے۔

بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ ’کس دوست ملک نے ڈیڑھ ارب ڈالر فراہم کیے؟ اگر حکومت کی نیت صاف تھی تو لوگوں سے یہ بات کیوں چھپائی گئی۔‘

’یہ پیسہ کیوں دیا گیا ہے، یہ کس چیز کی قیمت ہے، کیا یہ میرے ملک کے جوانوں کے سر کی قیمت ہے، اگر کسی ملک کے پراسرار چندے سے ہماری معشیت، ہماری فوج اور حکومت چلائی جاسکتی ہے تو یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہماری فوج کوئی پیشہ ور قاتلوں کی فوج نہیں، ہماری فوج غیرت مند فوج ہے، ہماری فوج ہمارا سرمایہ ہے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ ابھی تک ہماری اپنی جنگ ختم نہیں ہوئی اور آپ اپنے مشیروں کے مشورے پر دوسروں کی جنگ میں چھلانگ لگانے جا رہے ہیں۔‘

جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان میں فرقہ پرستی اور دوسرے مسائل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کا اعلان بھی کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پچھلے دنوں کالعدم لشکر جھنگوی کی جانب سے مبینہ طور پر دھمکی دی گئی تھی۔ لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کی قیادت کسی دھمکی سے چھپ کر نہیں بیٹھےگی۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اس دھمکی میں ملوث عناصر کو سامنے لائیں۔

مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو جلد پنجاب سمیت پاکستان کا دورہ کریں گے اور تنظیم سازی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

بلاول بھٹو نے مذہبی شدت پسندوں پر تنقید کی اور ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ ’شدت پسند لوگوں پر اپنے طرز کا مذہب مسلط کرنا چاہتے ہیں اور وہ ملک میں تباہی پھیلا کر جنت کی حوریں لینا چاہتے ہیں، انھیں وہ نہیں ملیں گی۔‘

’میں انہیں بھی متنبہ کرتا ہوں جو اپنے صوبے میں دہشتگردوں کو سیاست کے نام پر پناہ دیتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا کہ اس ملک کے چھوٹے صوبوں میں اس وقت تک امن نہیں ہوگا جب تک اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت دہشت گردوں کو پناہ دینا نہیں چھوڑے گی، جاگ پنجاب پاکستان جل رہا ہے۔‘

سکیورٹی وجوہات کے باعث اس سال ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کا جلسہ دوپہر کو منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سات ہزار سے زائد اہلکار تعینات تھے۔ اس کے علاوہ پیپلز یوتھ کے بھی ہزار سے زائد رضاکاروں نے بھی سیکیورٹی کی خدمات سر انجام دیں۔

سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں حکومت پر تنقید سے گریز کیا اور جمعہ کی شام کے جلسے کو بلاول بھٹو کے نام قرار دیا۔

آصف علی زرداری نے اپنے مختصر خطاب میں عوام سے کہا کہ ’پاکستان کی سوچ رکھنی ہے اور ہرقسم کی فرقہ وارایت کا مقابلہ کرنا ہے۔‘

آصف علی زرداری نے بتایا کہ انھیں پارٹی کی مجلس عاملہ نے اجازت دی ہے کہ وہ تمام سیاسی قوتوں سے بات کریں اور دیکھیں کہ سب مل کر پاکستان کو کس طرح لےکر چل سکتے ہیں ۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کےاندرونی مسائل، جن میں توانائی کا بحران شامل ہے، وہ ان کی حکومت نے چین سے مل کر حل کر دیا تھا اور اب اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

جلسہ عام میں حکومت کی نجکاری پالیسی پر بھی تنقید کی گئی۔ جلسے سے رضا ربانی، اعتزاز احسن اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن مسائل کے لیے ذوالقفار علی بھٹو نے جدوجہد کی تھی وہ مسائل آج بھی موجود ہیں۔

’غریبوں کو نوکری سے نکالا جارہا ہے اور اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے۔ اس سے غریب، غریب تر اور امیر مزید امیر ہوگا۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ میاں نواز شریف کی حکومت میں یہ فرق ہمیشہ بڑھ جاتا ہے۔

اسی بارے میں