نو ماہ کا بچہ پولیس پر قاتلانہ حملے کا ’ملزم‘

تصویر کے کاپی رائٹ GEO TV
Image caption بچہ کمرۂ عدالت میں دودھ کی بوتل لیے اپنے والد کی گود میں بیٹھا رہا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کارِ سرکار میں مداخلت اور سرکاری اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں نو ماہ کے بچے کو ملزم قرار دینے والے پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے تاہم بچے کا نام تاحال مقدمے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔

محمد موسیٰ خان نامی اس بچے سمیت 30 افراد پر یہ مقدمہ مسلم ٹاؤن کے علاقے میں محکمۂ سوئی گیس کے ملازمین اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور مبینہ جھگڑے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔

ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے گیس کی چوری کے خلاف کارروائی کرنے والی ٹیم اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہوئے۔

جمعرات کو اس معاملے کی سماعت کے موقع پر دیگر ملزمان کے ہمراہ نو ماہ کے موسیٰ خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں وہ دودھ کی بوتل لیے اپنے والد کی گود میں بیٹھا رہا جو خود بھی نامزد ملزم ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ عدالت کے جج نے موسیٰ خان کو ملزم تسلیم کرتے ہوئے اسے دیگر ملزمان کے ساتھ ضمانت دے دی اور مقدمے کی سماعت 12 اپریل تک ملتوی کر دی۔

ذرائع ابلاغ میں قاتلانہ حملے کے نو ماہ کے ملزم کی خبریں نشر ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی ہے اور مقدمہ درج کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ان احکامات پر مقدمہ درج کرنے والے اہلکار اے ایس آئی کاشف کو معطل کر دیا گیا تاہم بچے کا نام اب بھی مقدمے سے نہیں نکالا گیا ہے۔