ہمسایوں کو پہیے نہیں ہوتے

Image caption اچھی بات یہ ہے کہ افغان مسلح و سیاسی گروہوں میں سوائے طالبان کے کسی نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ نہیں کیا

ابتدائی آثار بتاتے ہیں کہ افغان صدارتی انتخابات میں دھاندلی ہوئی بھی ہے تو بس اتنی جتنی گذشتہ برس پاکستان کے عام انتخابات میں ہوئی تھی۔

تیسرے افغان صدارتی انتخابات کو یوں بھی اہم کہا جاسکتا ہے کہ ان کے طفیل افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب صدر کے ہاتھوں دوسرے منتخب صدر کو مارا کاٹی کے بغیر انتقالِ اقتدار کے امکانات روشن ہیں۔

گویا پاکستان کو جس منزل پر پہنچنے میں 65 برس لگے افغان وہ منزل شاید 41ویں برس میں حاصل کر لیں اگر کیلنڈر 1973 سے شروع کیا جائے جب افغانستان میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا تھا۔

پہلے صدارتی انتخاب میں 50 فیصد ووٹ ڈلے تھے، دوسرے صدارتی انتخاب میں 44 فیصد کے لگ بھگ ٹرن آؤٹ رہا لیکن برسرِ اقتدار صدر کرزئی کے حق میں بھاری دھاندلی ہوئی مگر تیسرا صدارتی انتخاب پچھلے دو کے مقابلے میں زیادہ شفاف اور پرامن ہے اور ووٹنگ ٹرن آؤٹ بھی 60 فیصد کے لگ بھگ بتایا جا رہا ہے باوجودیکہ اس مرتبہ پاکستان اور ایران میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو ووٹ کا حق نہیں ملا۔

یہ سنگِ میل یونہی نہیں عبور ہوا۔ افغانوں نے شاید اس لیے پولنگ سٹیشنوں پر لمبی قطاریں بنائیں کیونکہ انہیں نظر آرہا ہے کہ امریکہ جا رہا ہے اور اگر کوئی خلا پیدا ہوتا ہے تو پھر 1990 کی دہائی لوٹ سکتی ہے جب جنگجو پرستی ، ہوسِ اقتدار اور ہر طرف سے بیرونی مداخلت سکہ رائج الوقت تھا۔ چنانچہ زندگی بیزار امن کے پیاسے افغانوں نے طالبان کو آزمایا اور پھر طالبان نے افغانوں کے صبر کو آخری حد تک آزمایا۔

ویسے بھی 35 سالہ بدامنی کسی بھی سماج کے لیے بہت ہوتی ہے۔ یا تو وہ تھک کے بکھر جاتا ہے یا پھر تار تار قومی لباس پھر سے سینے کی کوشش کرتا ہے اور افغان کے بارے میں تو سب جانتے ہیں کہ وہ برباد ہو سکتا ہے مگر ہمت نہیں ہار سکتا۔

اچھی بات یہ ہے کہ نرگسیت زدہ حامد کرزئی تیسری مدت کے لئے آئینی طور پر امیدوار نہ بن سکے۔ اچھی بات یہ ہے کہ افغان مسلح و سیاسی گروہوں میں سوائے طالبان کے کسی نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ طالبان نے بھی اپنی کاروائیاں غیر اعلانیہ انداز میں روک کر اس عمل کو اپنے زیرِ اثر علاقوں میں بلا واسطہ انداز میں آگے بڑھنے کی سہولت دی جو خوش آئند ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ حسبِ منشا نتائج نہ آنے کی صورت میں کسی امیدوار یا گروہ نے افغانستان کی تقسیم کی بات نہیں اٹھائی۔

اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کی سٹریٹیجک قیادت میں اس وقت کوئی جنرل حمید گل نہیں چنانچہ سٹریٹیجک ڈیپتھ کے نظریے میں بھی پہلے جیسی ڈیپتھ نہیں۔ ویسے بھی سٹریٹیجک ڈیپتھ کا نظریہ پاکستانی طالبان کب کے اغوا کر چکے اور اچھی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ایک جمہوری حکومت دوسری جمہوری حکومت کی جگہ لینے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

سیاسی حکومت کے تسلسل کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ بھلے کتنی ہی موثر یا غیر موثر ہو مگر عسکری قیادت کے برعکس خارجی و داخلی معاملات کو یک رخے انداز میں غیر لچک دار طریقے سے نہیں پرکھتی۔

اب تک افغانستان میں جو بھی شاہی، سوشلسٹ، انارکسٹ یا مذہبی حکومت آئی کسی کی پاکستان سے نہ بن پائی۔ دونوں ممالک تاریخی، جغرافیائی، مذہبی، نسلی، سیاسی و سماجی و اقتصادی لحاظ سے ایسے جڑواں ہیں جن کا ایک دوسرے کے بغیر بھی گزارہ نہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بھی گزارہ نہیں ہو پا رہا۔

پھر بھی بھلا کون سا ایسا افغان حکمران ہوگا جو کراچی تا طورخم راہداری سے محروم ہونا پسند یا افورڈ کر سکے۔ بھلا کونسی ایسی افغان یا پاکستانی حکومت ہوگی جو ایک طویل سرحد کو مسلسل غیر مستحکم دیکھنا چاہے تو پھر ایسا کیوں کہ افغان ہر دور میں پاکستان کی میزبانی کا بھی لطف اٹھاتے ہیں لیکن بدظن بھی رہتے ہیں؟

حالانکہ پاکستان آج جن حالات میں ہے اس کا آدھا سبب افغانستان کے حالات ہیں تو کیا افغان طبعاً ناشکرے ہیں یا پھر پاکستان کی افغان پالیسی میں کوئی بنیادی خرابی پوشیدہ ہے؟

اس سوال کا کوئی مطمئن جواب تلاش کرنا اکیلے جی ایچ کیو یا اس کے پوسٹ آفس دفترِ خارجہ کے بس کا روگ نہیں۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان کو علاقائی، تاریخی اور سیاسی تناظر میں ایک ایسی جامع قومی پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے جس کے طے شدہ اصولوں سے کوئی حکومت اور ادارہ روگردانی نہ کر سکے۔

رنجیت سنگھ نے لاہور میں پناہ گزین شاہ شجاع درانی سے زبردستی کوہ نور ہیرا لے کر اسے کابل کا تخت واپس دلا تو دیا لیکن پھر چوروں کو پڑ گئے مور اور رنجیت سنگھ کے وارثوں سے یہ ہیرا انگریز لے اڑے۔

اب جب کہ نہ افغانستان کو اور نہ ہی پاکستان کو رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو تو پھر اچھے بچوں کی طرح دونوں ایک ساتھ کیوں نہیں کھیل کود سکتے تو کیا واقعی دونوں نہیں جانتے کہ ہمسائیوں کو پہیے نہیں ہوتے؟

اسی بارے میں