صحت کا انصاف تین مزید اضلاع میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صحت کا انصاف مہم کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور کے بعد صحت کا انصاف مہم صوبے کے تین مزید اضلاع صوابی ، مردان اور چارسدہ میں شروع کر دی گئی ہے۔

اتوار کو چار اضلاع میں حکام کے مطابق لاکھوں بچوں کو پولیو اور دیگر امراض سے بچاؤ کے قطرے دیے گئے۔

صحت کا انصاف مہم صوابی ، مردان اور چارسدہ میں شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کے لیے ان علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق پشاور میں ساڑھے سات لاکھ بچوں، مردان میں تین لاکھ، چارسدہ اور صوابی میں ڈھائی ڈھائی لاکھ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے دیے گئے ہیں۔

اس مہم کے افتتاح کے لیے صوابی میں سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر اور مردان میں سینیئر صوبائی وزیر شہرام خان مردان میں موجود تھے۔

ہر ضلعے کی سطح پر تحریک انصاف کے رضاکار اس مہم میں محکمہ صحت کے کارکنوں کے ہمراہ گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے دینے میں معاونت کرتے رہے۔

صوابی میں ایک ہزار سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جبکہ ان کی حفاظت کے لیے بارہ سو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

اسی طرح مردان چارسدہ اور پشاور میں بھی تمام ٹیموں کے حفاظت کے لیے ان علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اہلکار تعینات رہے۔

پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے 39 مریض سامنے ائے ہیں جن میں سب سے زیادہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پشاور کے بعد سب سے زیادہ مریض ضلع بنوں سے ہیں جو کہ شمالی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اس وقت پشاور کے بعد پولیو کا وائرس جنوبی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے لیکن صحت کا انصاف مہم شمال میں ان علاقوں میں شروع کی گئی ہے جہاں پولیو کے کم مریض ہی سامنے آئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ناراض اراکین اسمبلی بھی یہی شکایت کرتے آئے ہیں کہ ماضی کی ان روایات کا جاری رکھا ہوا ہے جہاں سے بااثر وزیر یا وزیر اعلی کا تعلق ہوتا ہے فلاحی اور ترقیاتی کام بھی انھیں علاقوں میں شروع کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں