بگٹی کیس:مشرف کو 21 اپریل کو پیش ہونے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر کی ضمانت منظور کی ہوئی ہے

بلوچ سردار اور صوبۂ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمے میں عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو 21 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

کوئٹہ میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نمبر ایک کے جج طارق کاسی نے پیر کو اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر مشرف پیش نہیں ہوتے تو ان کی ضمانت منسوخ کر دی جائے گی۔

اس مقدمے کے مدعی جمیل بگٹی کے وکیل نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ عدالت پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق عدالت نے پرویز مشرف کے دو ضمانتیوں کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔

پیر کو مقدمے کی سماعت کے دوران سابق وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور سابق صوبائی وزیرِ داخلہ شعیب نوشیروانی پیش ہوئے اور عدالت نے انھیں بھی 21 اپریل کو دوبارہ طلب کر لیا۔

اس مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر کی ضمانت منظور کی ہوئی ہے جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر خان بگٹی اگست 2006 میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔

ان کی ہلاکت کے بعد نواب بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست پر بلوچستان ہائیکورٹ نے ان کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جس میں پرویز مشرف کے علاوہ آفتاب شیرپاؤ، شعیب نوشیروانی، سابق وزیرِاعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی صمد لاسی کو بھی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں