’تحفظِ پاکستان بل‘ قومی اسمبلی سے منظور

  • 8 اپريل 2014
Image copyright BBC World Service
Image caption ۔۔۔۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا

پاکستان میں حکومت نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف تحفظِ پاکستان بل کو اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے عوامی سطح پر حکومت کے اس فیصلے کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا جائزہ لیں گے: سپریم کورٹ

دہشت گردی کی بیماری کو ختم کر دیں گے: نواز شریف

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا اور وقفۂ سوالات کے بعد وفاقی وزیر زاہد حامد نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف تحفظ پاکستان بل ترامیم کے ساتھ تیسری بار پیش کیا۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باوجود حکومتی جماعت مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں نے یہ بل سادہ اکثریت سے منظور کر لیا۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت ہونے کے باعث اس بل کومنظور ہونے نہیں دیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس بل کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کے عمل میں تیز رفتاری کو یقینی بنانا ہے۔

بل کے مندرجات میں کہا گیا ہے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کے لیے خصوصی عدالت قائم ہو گی اور ایسے مقدمات کی سماعت تیزی سے کی جائے گی۔ اس خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف 15 دن میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔

اس کے علاوہ دہشت گردی کے مقدموں کی تفتیش مشترکہ ٹیم کرے گی جبکہ بل کے تحت کسی بھی مشتبہ دہشت گرد کو 90 دن کے لیے برائے تفتیش حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

بل کے مطابق کسی بھی مقدمے کی کارروائی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10 سے متصادم نہیں ہوگی۔

تحفظِ پاکستان بل پر بات کرتے ہوئے قائدِ حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت جلد بازی کے بجائے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مل کر بل میں موجود نقائص کو دور کرے۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بل میں کہاگیا ہے کہ جو شخص ملک کا دشمن ہوگا یا جس شخص سے ملک کوخطرہ ہو اس کے خلاف نئے قوانین کے تحت کارروائی ہوگی تاہم بل میں یہ واضح نہیں ہے کہ ملک کا دشمن کون اورکس شکل میں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پولیس اور دیگر اداروں کو جو بے پناہ اختیارات دیے گئے ہیں اس کی ہم نے نشاندہی کی لیکن حکومت نے ہماری کسی ایک تجویز پر بھی غورکرنا گوارا نہ کیا۔‘

ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ 240 دنوں میں تحفظ پاکستان آرڈیننس کے نفاذ سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہوا ہے، جہاں سب سے بڑے شہر کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو نشانہ بنایاگیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پولیس اور سکیورٹی کے نام پر دیگر اداروں کو جو اختیارات دیے جا رہے ہیں وہ ماورائے آئین ہیں۔ یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کے خلاف ہم نے ترامیم پیش کی تھیں لیکن حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘

پیپلزپارٹی کے رہنما اعجاز جاکھرانی نے بل پاس ہونے کے دن کو پاکستان کے لیے سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آج حکمران جماعت نے ایک ڈکٹیٹرکا رویہ اپنا کر یہ بل پاس کروایا ہے عوام سے منتخب جماعت نے ایک ایسا کالا قانون پاس کروایاہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔‘

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں عوام کے پاس کے جانے کے علاوہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکٹائیں گی۔

جمعیت علمائے اسلام ف نے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود بل کی مخالفت کی ہے۔

لورالائی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی مولانا امیر زمان نے بل کو سول مارشل لا کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جمعیت اس طر ح آنکھیں بند کر کے حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتی اور موجودہ بل ایجنیسوں کی پیداوار ہے۔ انھی ایجنسیوں نے مسلم لیگ ن سے کہا کہ وہ جا کر اسمبلی سے یہ بل پاس کروا لیں۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن دھاندلی سے منتخب ہوئی ہے اور دھاندلیوں کے بل بوتے پرحکومت کر رہی ہے۔ بقول مولانا امیرزمان کے کہ بلوچستان، سندھ اور صوبہ خیبرپختونخوا میں جولوگ اغوا ہورہے ہیں اس میں بھی ایجنسیاں ملوث ہیں۔

تاہم حکومتی جماعت مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ اس بل کی منظوری سے ملک میں بہت حد تک دہشت گردی کاخاتمہ ممکن ہو جائےگا۔

انھوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کے اس رویے کی وجہ سے پاکستان کا وقار پوری دنیا میں مجروح ہو رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں قیصر احمد شیخ نے کہا کہ جب تک پولیس اور دیگر اداروں کو تحفظ نہیں ملےگا اس وقت تک ان اداروں کا دہشت گردی کے خلاف کام کرنا آسان نہیں ہے۔

اسی بارے میں