’تحفظ پاکستان ایکٹ کالا قانون ہے، مخالفت کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس قانون کے تحت کسی پاکستان شہری کی شہریت کو ختم کیا جا سکتا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ایوان بالا کےقائد ایوان رضا ربانی نے کہا ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈینینس کالا قانون‘ ہے اور یہ قانون آئین میں دیےگئے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیریبن میں بات کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ایک سخت قانون کی ضرورت ہے لیکن ایسا قانون آئین کی حدود کےاندر اور بنیادی حقوق کے منافی نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے قانون کے تحت کسی بھی شہری کی شہریت کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی اداروں کا ٹریک ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں ہے اور وہ قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت سکیورٹی اہل کار کسی شخص کو کسی شبے پر گولی مار سکتے ہیں۔’ماضی میں ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ سکیورٹی اداروں نے پارک میں بیٹھے لوگوں کو گولیاں ماری ہیں۔‘

انھوں نے کہا اس قانون کے تحت اگر سکیورٹی ادارے کسی شخص کو دہشتگردی کے شبے میں گرفتار کرتے ہیں تو ملزم کو اپنی بےگناہی ثابت کرنی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے اس قانون کے بنانے میں اپوزیشن سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔ ’اگر حکومت مشاورت کرتی تو کوئی نہ کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جاتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

انھوں نے کہا جب یہ قانون سینٹ میں منتقل ہوگا تو اس کی مخالفت کی جائے گی اور وہ ایک ایسا بل پیش کریں گے جس پر سب کو اتفاق ہو۔ ’اس قانون کی ضرورت ہے لیکن قانون ایسا ہونا چاہیے جو آئین کے دائرہ کار میں ہو۔‘

کراچی پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری نے اس قانون کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لے خصوصی قوانین کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ عام قوانین کے ذریعے دہشت گردوں سے نمٹنا ممکن نہیں ہے۔ افضل شگری نے کہا کہ موجودہ حالات میں دہشت گردوں کے خلاف گواہی دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا اور موجودہ قوانین کے معیار اتنے اونچے ہیں کہ دہشت گردی کے شبے میں گرفتار ہونے والوں کی نہ صرف ضمانتیں ہو جاتی ہیں بلکہ وہ بری ہو کر وہی کام کرتے ہیں جو وہ پہلے کر رہےتھے۔

افضل شگری نے کہا کہ ایسی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ بعض اوقات اپنی حدیں عبور کر جاتے ہیں۔

قوانین کے غلط استعمال ہونے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایسی شکایات تو عام قوانین سے متعلق بھی ہیں اور قوانین کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام موثر ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں