نہ قیدی رہا ہوئے نہ کارروائیاں بند ہوئیں، تحریک طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قیدیوں کی رہائی کی بھی شاہد اللہ شاہد نے تصدیق نہیں کی

پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر عسکری قیدیوں اور پیس زون کے معاملے پر حکومت کی طرف سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ملک بھر میں تنظیم کے لوگوں کے خلاف بدستور کارروائیاں جاری ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں جس کا لہجہ دھمکی آمیز تھا کہا گیا کہ حکومت کی طرف سے ان شرائط کا پورا نہ ہونا ’لمحہ فکریہ‘ ہے اور ان کے خلاف کارروائیوں کا بدستور جاری رہنا ’ناقابلِ برداشت ہے۔‘

یاد رہے کہ حکومت اب تک دو درجن سے زیادہ ’غیر عسکری‘ طالبان کو رہا کر چکی ہے۔

شاہد اللہ شاہد کا بیان جو بی بی سی کو موصول ہوا اس میں کہا گیا کہ اب تک کسی غیر عسکری قیدی کو طالبان کمیٹی کے حوالے نہیں کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تحریک طالبان اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں خوشگوار ماحول میں مذاکرات کے انعقاد کے لئے حکومت کی طرف سے سیزفائر کے مطالبے کو طالبان نے پوری سنجیدگی کے ساتھ پورا کیا۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے پیش کی گئی باتوں پر حکومت مسلسل لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی طرف سے کامیاب مذاکرات کے آغاز کے لئےابتدائی طور پر تین مطالبے پیش کیے گئے تھے۔ ان مطالبات میں اولاً فری پیس زون کا قیام جہاں فریقین کا آمد ورفت بسہولت ممکن ہو۔ دوئم غیر عسکری قیدیوں کی غیر مشروط رہائی اور سوئم یہ کہ پورے ملک میں تحریک طالبان کے خلاف جاری کارروائیوں کو فوری طور پر روک دیا جائے۔

ان تینوں معاملات پر شاہد اللہ شاہد کے مطابق حکومتی پیش رفت کی صورت حال یہ ہے کہ غیر عسکری قیدیوں کی فہرست حکومتی کمیٹی کے حوالے کیا گیا تاہم اب تک کوئی قیدی طالبان کمیٹی کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ پیس زون کے قیام پر حکومتی کمیٹی اور بعض اعلی حکام کے بیانات حکومتی اداروں کے مابین عدم اعتماد کا واضح مظہر ہے۔

طالبان کے خلاف کارروائیاں جن میں گرفتاریاں، چھاپے، قیدیوں پر تشدد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ پورے ملک میں جاری ہے جو ناقابل برداشت اور سیز فائر پر سوالیہ نشان ہے؟