مہنگے قرضے بوجھ بنتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption پاکستان کے مجموعی قرضوں ساٹھ ارب ڈالر کے قریب ہیں

پاکستان کی طرف سے دو ارب ڈالر کے یورو بانڈر جاری کرنے پر اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈز پر دی جانے والی شرح سود حقیقت پسندی پر مبنی نہیں ہے اور ایک ایسے وقت جب یورپ اور امریکہ کے بینکوں میں شرح سود انتہائی کم ہے حکومتِ پاکستان کی طرف سے یورو بانڈ کا اجراء بیرونی ممالک میں سرمایہ رکھنے والوں کے لیے منافع کمانے کا ایک آسان موقع ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے سیاست دانوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کے اربوں ڈالر بیرونی ملکوں کے بینکوں میں جمع ہیں جہاں آج کل شرح سود انتہائی کم ہے۔

سینیئر صحافی اور معاشی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار ضیاالدین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اور امریکہ کے بینکوں میں شرح سود کم ہے اور اس تناظر میں پاکستان کے یورو بانڈز پر دیے جانے والی شرح سود زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بانڈ زیادہ تر بیرون ملک پاکستانی خریدیں گے اور قوی امکان یہی ہے کہ پاکستانی بشمول سیاست دان جن کے بیرون ملکوں کے بینکوں میں کھاتے ہیں وہ ان بانڈ کو خرید رہے ہوں۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں پاکستان کے سابق چیف اکانومسٹ پرویز طاہر کا کہنا تھا کہ حکومت یورو بانڈ سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوگا اور ملک پر اقتصادی بوجھ بڑھے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے دو ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجراء کیا ہے جس میں سود کی شرح سات اعشاریہ دو پانچ فیصد اور آٹھ اعشاریہ دو پانچ فیصد ہے ۔

پرویز طاہر نے کہا کہ حکومتی چاہتی ہے کہ یہ ثابت کیا جا سکے کے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی معیشت پر اعتماد اور وقار موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کا وقار ملک کے ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بنا کے کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سامنا تھا اس میں تو فوری طور پر اضافہ ہو جائے لیکن جس طرح سے ادائیگیاں ہوتی رہیں گی زرمبادلہ کے ذخائر پھر کم ہونا شروع ہو جائیں گے اور یورو بانڈز کے اجراء سے معیشت میں کو بامعنی یا ٹھوس اضافہ نہیں ہوسکے گا۔

طاہر پرویز نے کہا ہے کہ مہنگے قرضے لینے سے افراط زر کی شرح میں اضافہ ہو گا اور جس کا بوجھ عوام کے ہی کاندھوں پر آئے گا۔

اسی بارے میں