تحفظِ پاکستان بل تشویش ناک ہے: ہیومن رائٹس کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف (دائیں) کہتی ہیں کہ ضروری نہیں کہ امریکہ جو کرے وہ ہم بھی کریں

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ تحفظِ پاکستان بل (پی پی او) جبری گمشدگیوں اور شبہے کی بنیاد پر کسی کو گولی مارنے کا اختیار دینے کے لیے قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔

کمیشن کی سربراہ زہرہ یوسف کے مطابق حکومت کو اس نئے قانون کی بجائے ملک میں پہلے سے موجود قوانین کو موثر طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی سربراہ کہتی ہیں کہ تحفظِ پاکستان بل (پی پی او) میں ملزمان کو زیرِحراست رکھنے کی مدت بڑھانا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شک کی بنیاد پر کسی کو گولی مارنے کا اختیار دینا یا غائب کر دینا اور جواب دہ نہ ہونا تشویش ناک ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شبہے کی بنیاد ملزمان کو زیرِ حراست رکھنے کی مدت میں 30 دن سے 90 دن کا اضافہ بہت طویل عرصہ ہے اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ اپنی مرضی سے تفتیش کریں۔

زہرہ یوسف کہتی ہیں پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صرف جوابی کارروائی میں گولی مارنے کا اختیار تھا، تاہم پی پی او میں انھیں شبہے کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو گولی مار دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کراچی میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں رینجرز نے معصوم لوگوں کی جانیں لی ہیں۔‘

ایچ آر سی پی کی سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری نظر میں لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنے کو قانونی جواز دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ اس بل میں اٹھانے والوں کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ یہ بتائیں کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔‘

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت دہشت گردی کے تدارک میں مدد ملے گی لیکن پھر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اور نکتہ چین اس بات کو کیوں نہیں سمجھ رہے؟

اس سوال کے جواب میں زہرہ یوسف کا موقف تھا کہ بلاشبہ پاکستان کی موجود صورتِ حال میں حکومت کو دہشت گردی کے تدارک کے لیے باضابطہ قانون بنانے اور پالیسی بنانے کی ضرورت تھی۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف عدالتیں بھی موجود ہیں، شدت پسندی کے خلاف 1997 کا ایکٹ بھی موجود ہے جس میں کئی مرتبہ ترامیم ہو چکی ہیں۔

زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ اس قانون میں گواہوں اور مدعی کے تحفظ پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

یہاں اس امر سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کے بڑے ممالک میں بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اس قسم کے قوانین بنائے گئے ہیں، مثلاً امریکہ میں نائن الیون کے واقعے کے بعد گاہے بگاہے قوانین میں سختی کی گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی اس قسم کا قانون موجود ہے۔ تو ایسے میں پاکستان کہاں جائے، اگر وہ ایسا کوئی اقدام کرتا ہے تو اس پر اتنے تحفظات کیوں؟

زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ ضروری نہیں امریکہ جو کرے وہ ہم بھی کریں اور یہ کہ وہ صحیح بھی ہو: ’امریکہ میں بھی میڈیا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے نائن الیون کے بعد بننے والے قوانین پر تنقید کی تھی۔‘

ایچ آر سی پی کی سربراہ نے کہا کہ ممکنہ طور پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے پی پی او کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ اسے مختلف پہلوؤں سے دیکھے گی۔

’سپریم کورٹ اس قانون کودیکھتے ہوئے ملک کی صورتِ حال کو دیکھے گی مگر میرے خیال سے وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی نظر سے بھی اس قانون کو دیکھے گی۔‘

ادھر قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اس قانون کے بارے میں حکومت واضح نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زہرہ یوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری نظر میں لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنے کو قانونی جواز دینے کی کوشش کی جاری ہے‘

بین الاقوامی قانونی امور کے ماہر احمر بلال صوفی نے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت اس قانون کے بارے میں کنفیوژن ہے اور حکومت اس حوالے سے پارلیمنٹ میں واضح نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر یہ قانون صرف جنگ زدہ علاقے میں نافذ کرنے سے متعلق ہے تو پھر تو آپ اس کی کچھ شقوں کو بطورِ دفاع استعمال کر سکتے ہیں، تاہم اگر یہ امن کے حالات کے لیے بھی ہے تو پھر اس کی بہت سی شقیں بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں۔‘

احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ ملک میں پہلے ہی انسدادِ دہشت گردی کا ایکٹ موجود ہے اور ایک طرح سے پی پی او کی جگہ لے رہا ہے اور ابھی یہ وضاحت نہیں کہ یہ دونوں قانونی حیثیت میں کیسے ساتھ ساتھ چلیں گے اس سے عملی امور میں بہت کنفیوژن پیدا ہوگی۔

احمر بلال صوفی سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ دنیا کے دیگر ممالک کی اعلیٰ عدالتوں کی مانند حکومت اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرے۔ وہ بتاتے ہیں کہ دنیا کی سپریم کورٹس زمانۂ امن اور زمانۂ جنگ کے قوانین کی وضاحت کرتی ہیں لیکن پاکستان میں سپریم کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کے کسی بھی قانون کی کبھی وضاحت نہیں کی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے صدر نے اکتوبر 2013 میں تحفظ پاکستان آرڈینس جاری کیا تھا۔

اس پر تنقید کے بعد حکومت نے ترمیم شدہ بل پیر کے روز ایوانِ زیریں سے سادہ اکثریت سے منظور کروا لیا تھا، تاہم پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے اس کے خلاف اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنوری 2014 کو جبری گمشدگی کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ وہ حکومت کے پیش کردہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا جائزہ لے گی اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہونے کی صورت میں اس سے متعلق فیصلہ بھی دے سکتی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے ایوانِ زیریں سے تو یہ بل پاس کروا لیا ہے تاہم اپوزیشن کا کہناہے کہ وہ ایوانِ بالا میں اسے پاس ہو کر قانون نہیں بننے دے گی۔

اسی بارے میں