خیبر پختونخوا میں سکھوں کے خلاف تشدد میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پشاور پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں دس ہزار کے لگ بھگ سکھ رہائش پذیر جن میں تین ہزار رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکھ برادری کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد اب یہ سلسلہ خیبر پختونخوا کے علاقوں تک پھیل رہا ہے جس سے صوبہ بھر میں مقیم سکھ باشندے عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔

پشاور سے ملحقہ ضلع چارسدہ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران دو سکھ حکیموں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں پشاور سے تعلق رکھنے والے سکھ حکیم بابا جی پرم جیت سنگھ بھی شامل ہیں۔

حکیم بابا جی کو شب قدر کے علاقے میں ان کی دکان کے اندر مسلح افراد نے سر میں گولی مار کر ہلاک کیا۔ اس حملے میں ان کے ساتھ دکان میں کام کرنے والے ایک مسلمان نوجوان بھی مارے گئے تھے۔

حکیم بابا جی پرم جیت سنگھ کو ہلاک ہوئے ایک ماہ کا عرصہ پورا ہوگیا ہے لیکن پشاور کے محلہ جوگان شاہ میں واقع ان کے گھر میں بدستور ایک صدمے کی کفیت پائی جاتی ہے۔ مقتول کی دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں جن کی عمریں سات سے تین سال کے درمیان ہیں۔

مقتول کی بیوہ دروندر کور جاننا چاہتی ہیں کہ آخر ان کے خاوند کا قصور کیا تھا؟ انھیں کس جرم کی سزا دی گئی اور انھیں ان سے کیوں چھینا گیا؟۔

انھوں نے کہا کہ جس دن ان کے شوہر پر حملہ کیا گیا اس دن وہ نئے کپڑے پہن کر دکان گئے۔ انھوں نے کہا ’ ان کے خاوند انتہائی ڈرپوک انسان تھے اگر ان کو پہلے معلوم ہوتا کہ کوئی انھیں مارنے آ رہا تو وہ کبھی دکان پر نہ جاتے۔‘

دروندر کور کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کے قتل سے پہلے چارسدہ میں ایک اور سکھ حکیم کو بھی ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد ان کے خاوند بھی پریشان رہتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ شاید ان کا بھی کسی دن نمبر آ جائے۔

انھوں نے روتے ہوئے کہا ’ میرے بچے روزانہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بابا کہاں گئے؟ وہ گھر کیوں نہیں آ رہے؟ ہمیں ان کی بڑی یاد آتی ہے۔‘

چارسدہ میں ان واقعات کے بعد وہاں رہنے والے زیادہ تر سکھ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ عدم تحفظ کے احساس کا یہ عالم ہے کہ شہر میں بیشتر سکھوں کی دکانیں تاحال بند پڑی ہیں یا وہاں ان کی جگہ ان کے مسلمان نوکر کام کر رہے ہیں۔ کئی سکھوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی دکانوں سے سائن بورڈز بھی ہٹا دیے ہیں۔

پاکستان میں سکھوں کی سب بڑی تعداد پہلے قبائلی علاقوں میں آباد تھی تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں وہاں سے بیشتر سکھ اب خیبر پختونخوا کے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ فاٹا کے علاقوں اورکزئی، خیبر اور کرم ایجنسی سے منتقل ہونے والے بشیتر سکھ باشندے پشاور میں رہائش پزیر ہیں۔

پشاور پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں دس ہزار کے لگ بھگ سکھ رہائش پذیر جن میں تین ہزار رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل ہیں۔

پشاور کا محلہ جوگان شاہ سکھوں کا علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں قیام پاکستان سے سکھ براداری کے افراد رہائش پزیر ہیں۔ یہاں سکھوں کا ایک تاریخی گوردوارہ بھی واقع ہے۔

فاٹا اور خیبر پختونخوا میں سکھوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے کئی سکھ خاندانوں نے پنجاب کے شہروں کا بھی رخ کیا ہے۔

پشاور کے بعد سکھوں کی سب سے بڑی آبادی حسن ابدال اور ننکانہ صاحب میں مقیم ہے۔

پشاور میں سکھوں کے ایک رہنما چرن جیت سنگھ نے بتایا کہ چارسدہ میں سکھ حکیموں پر حملوں کے بعد سے پشاور میں رہنے والے سکھ خاندان بھی عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہا ’پاکستان ہمارا ملک ہے، ہمارے آباؤ اجداد یہاں رہتے آئے ہیں پھر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے تو ہمارے اپنے گھر ہیں یہاں ہم پھلے بڑھے ہیں یہ ہماری اپنی مٹی ہے لیکن افسوس یہاں ہمارے ساتھ بہت برا سلوک ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر سکھ باشندے اپنی پیدائش کے مقامات میں بھی محفوظ نہ ہوں تو پھر وہ کہاں جائیں یہ ملک چھوڑ دیں یا کیا کریں۔

’ ہم پہلے بھی یہ واضح کرچکے ہیں کہ ہم کسی دوسرے ملک سے ہجرت کرکے نہیں آئے بلکہ ہم اسی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارا مرنا جینا بھی یہاں ہے۔‘

چرن جیت سنگھ کے مطابق حکومت کی طرف سے انھیں کوئی خاص سکیورٹی حاصل نہیں جب کہ شہر میں واقع ان کی عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں جس سے ان میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں