غیر فطری موت مرنے والوں کا قبرستان

Image caption پولیس کو شبہ ہے کہ فرقہ ورانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں کوئی تیسرا فریق ملوث ہے

کراچی شہر سے باہر واقع وادی حسین قبرستان میں گزشتہ روز ایک اور قبر کا اضافہ ہوا گلاب کی پتیوں کے ساتھ ڈھکی ہوئی یہ قبر سید وقار الحسن ایڈووکیٹ کی ہے جنھیں جمعرات کی صبح گھر سے عدالت جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس قبرستان میں اکثر ان لوگوں کی ہی قبریں ہیں جن کی موت غیر فطری ہوئی، یہ لوگ بم دھماکوں یا راہ چلتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنے، ان قبروں پر کتبوں کے ساتھ کئی کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہیں جن میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

بزرگ رئیس الحسن اپنے دو بیٹوں اور پوتے کے ساتھ دوسرے روز فاتحہ پڑھنے آئے، ان کی رہائش گلشنِ اقبال بلاک سات میں ہے جہاں کئی گلیوں کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا ہے۔

رئیس الحسن ریٹائرذ فوجی ہیں انھیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا۔ ان کے مطابق وقار بغیر کسی سکیورٹی کے جاتے تھے۔

’جمعرات کو گھر کے قریب اس کے سر پر تین چار گولیاں ماری گئیں، ہمیں اس وقت پتہ لگا جب ڈرائیور نے آواز لگائی اور وہ وقار کو لے کر بھاگا لیکن اس وقت تک وقار کا انتقال ہو چکا تھا۔

گلشنِ اقبال میں واقع جامعہ دارالخیر میں 500 سے زائد طالب علم زیرِ تعلیم ہیں، پہلے یہاں بیرون ممالک سے بھی طالب علم آتے تھے لیکن پرویز مشرف کے دور میں بعض پابندیوں اور سختیوں کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہوگئی۔

گزشتہ دو برسوں میں جامعہ دارالخیر کے طالب علموں یا اساتذہ کو پانچ بار نشانہ بنایا گیا۔

بدھ کی شب مدرسے سے چند قدم دور چائے کے ہوٹل پر ان پر فائرنگ کی گئی جس میں تین طالب علم ہلاک ہوگئے، ہلاک ہونے والوں کا تعلق بلوچستان سے تھا۔

مدرسے کے ترجمان خواجہ احمد الرحمان کہتے ہیں ’15 سال قبل جب اس علاقے میں آبادی نہیں تھی اس وقت بھی یہاں طالب علموں پر حملہ ہوا تھا جس میں تین طالب علم ہلاک ہوئے تھے۔‘

ان کے بقول پہلے بھی جب میاں نواز شریف کی حکومت تھی تو علما اور طالب علموں پر حملے ہوئے اور اب بھی اسی طرح ہو رہا ہے جیسے ماضی حال بن گیا ہے، اس وقت طالب باہر جا سکتے ہیں اور نہ ہی کھیل سکتے ہیں۔

جامعہ دارالخیر کو بار بار کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ احمدالرحمان اس کا کوئی واضح جواب نہیں دے سکے ان کا کہنا تھا کہ ان کے مدرسے کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے اور انھوں نے یہاں پر تشدد کا درس نہیں دیا اور نہ ہی کبھی فرقہ واریت کی بات کی ہے لیکن اس بات پر آنکھ بند نہیں کرسکتے کہ ان واقعات میں فرقہ وارانہ ہاتھ ملوث نہیں۔

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور پولیس کے مطابق اس عرصے میں 1150 افراد ہلاک ہوئے جب کہ آپریشن سے پہلے یہ تعداد 1750 تھی اس طرح ان ہلاکتوں میں صرف 34 فیصد کمی ہوئی ہے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ فرقہ ورانہ تشدد کے حالیہ واقعات میں کوئی تیسرا فریق ملوث ہے۔

ایس پی گلشن اقبال تنویر حسین کا کہنا ہے ’کسی اہل تشیع شخص کے قتل کے کوئی آدھے پونے گھنٹے کے بعد اہل سنت کے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ اتنے قلیل وقت میں ایک گروہ اتنی منصوبہ بندی کرکے دوسرے گروہ کے لوگوں کو نہیں مارسکتا اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک ہی گروہ ہے جس نے منصوبہ بندی کے تحت پہلا قتل کیا اور کچھ دیر کے بعد جاکر دوسری واردات کی۔‘

جامعہ دارالخیر کے ترجمان خواجہ احمد الرحمان پولیس کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں لیکن ساتھ میں یہ سوال کرتے ہیں کہ تیسرے فریق کو یہ موقعہ کس نے فراہم کیا؟

’جب آپ کے بندے مارے جاتے ہیں تو میں اس پر افسوس نہیں کرتا اور آپ کے ساتھ آ کر روڈ پر کھڑا نہیں ہوتا اسی طرح جب میرے بندے مارے جاتے ہیں تو آپ اس طرح سے پیش نہیں آتے کیونکہ میرے دل میں آپ کے لیے اور آپ کے دل میں میرے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس کو علمی میدان تک محدود رکھیں نہ کے اسے پرتشدد بنائیں۔‘

کراچی میں گزشتہ 100 دنوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے اکثر واقعات گلشنِ اقبال میں پیش آئے ہیں۔ ایس پی گلشن اقبال تنویر حسین اس کی تین وجوہات بیان کرتے ہیں۔

’شہر کی ایک بہت بڑی آبادی یہاں رہتی ہے اس کے علاوہ یہاں کئی بڑے مدارس اور امام بارگاہیں بھی ہیں، تیسری وجہ یہ ہے کہ یہاں کئی ایسی کچی بستیاں ہیں جن میں جرائم پیشہ افراد کو آسانی سے رہائش مل جاتی ہے، وہ فاٹا، بلوچستان اور اندرون سندھ سے آ کر رہتے ہیں جن میں سے بعض کو استعمال کیا جاتا ہے۔‘

پولیس کا ماننا ہے کہ یہ کچی آبادیاں ملزمان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، جن کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں