9 ماہ کے بچے کے خلاف مقدمہ خارج

تصویر کے کاپی رائٹ GEO TV
Image caption ابتدائی تفتیشی رپورٹ درج کرنے والے پولیس اہلکار نے عیمی اور اس کے بیٹے کے خلاف آیف آئی آر درج کی تھی لیکن بیٹے کا نام اور اس کی عمر کا تعین کرنے کا تردد نہیں کیا

پاکستان کی ایک عدالت نے، اپنے خاندان کے 12 افراد کے ہمراہ اقدامِ قتل کے مقدمے میں 9 ماہ عمر کے ایک بچے کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا ہے۔

لاہور کی ایک عدالت میں محمد موسیٰ خان قتل کی منصوبہ بندی کرنے، پولیس کو دھمکانے اور ریاستی امور میں مداخلت کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے پیش ہوئے۔

تاہم جج کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کو عدالت پہنچنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

اس قبل پولیس کے اعلیٰ افسران کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کیا۔

پولیس تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ابتدائی تفتیشی رپورٹ درج کرنے والے پولیس اہلکار نے عیمی اور اس کے بیٹے کے خلاف آیف آئی آر درج کی تھی لیکن بیٹے کا نام اور اس کی عمر کا تعین کرنے کا تردد نہیں کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر درج کرتے وقت غفلت سے کام لینے پر اس پولیس اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ٹیم کے سربراہ معروف صفدر واہلہ کے مطابق ’پولیس نے ایف آئی ار میں موسی کا نام کبھی درج ہی نہیں کیا تھا۔ بلکہ ’عیمی کے بیٹے‘ کو نامزد کیا گیا تھا۔ اورمقدمے درج کرنے والے اہلکار کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ عیمی کا بیٹا کون ہے اور اس کی عمر کیا ہے۔اور اب کی جانے والی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یونین کونسل کے ریکارڈ کے مطابق عیمی کے دو بیٹے ہیں جن میں سے کسی کی عمر بھی نوماہ نہیں۔‘

پولیس کی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ معتلقہ ایس ایچ او کی طرف سے عیمی کے بیٹے کی عمر اور نام وغیرہ کر تصدیق میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

کیونکہ قانون کے مطابق سات سال سے کم عمر کے بچے کو کسی مقدمے میں نامزد کیا ہی نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس پر فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے۔

اپنی کم عمر کے باوجود، محمد موسیٰ خان ان 30 افراش میں شامل ہیں جن پر لاہور میں بجلی اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے کشیدگی کے بعد پولیس افسران کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا گیا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں موسیٰ خان کی عدالت میں پہلی پیشی کا منظر نشر کیا گیا تھا جس میں انھیں اپنے والر کی گود میں بیٹھے دودھ پیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس بچے کے دادا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ تو اپنی دودھ کی بوتل بھی اٹھانا نہیں جانتا۔ وہ کس طرح پولیس پر پتھراؤ کر سکتا ہے۔‘

سنیچر کے روز عدالت میں پیشی کے موقعے پر موسیٰ خان پچھلی بار کے مقابلے میں زیادہ مطمئن نظر آ رہے تھے۔ پچھلی مرتبہ موسیٰ کے جس وقت انگلیوں کے نشانہ لیے گئے تو وہ شدید روئے تھے۔

موسیٰ کے باقی خاندان والوں کے خلاف یہ مقدمہ ابھی جاری ہے۔

اسی بارے میں