’دھمکیوں کے باوجود مقدمے کی پیروی کروں گا‘

  • 12 اپريل 2014
تصویر کے کاپی رائٹ gett
Image caption ایچ آر سی پی کا خیال ہے کہ محض متعصب افراد کی ہی یہ خواہش ہو سکتی ہے کہ ملزم کو قانونی نمائندگی نہ ملے

ملتان میں انسانی حقوق کمشن کےعہدیدار اور توہینِ رسالت کے ایک مقدمے کے وکیل صفائی راشد رحمان نے کہا ہے کہ وہ کمرہ عدالت میں ملنے والی دھمکیوں کے باوجود مقدمے کی پیروی جاری رکھیں گے البتہ انھوں نے کہاکہ ریاست انہیں تحفظ فراہم نہیں کررہی۔

راشد رحمان ایڈوکیٹ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے انگریزی کے ایک سابق استاد کے وکیل ہیں۔

انگریزی کے اس استاد کو گذشتہ سال توہین رسالت کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیاگیا تھا۔

استاد پر درج مقدمے کے تفصیلات کےمطابق کچھ عرصے پہلے ملتان کی یونیورسٹی کی دیواروں پر کچھ قابل اعتراض پوسٹر چسپاں پائےگئے ان پر لکھی تحریر توہین رسالت اور توہین مذہبی عقائد کے زمرے میں آتی تھی۔ ملزم استاد پر الزام عائد کیاگیا کہ یہ پوسٹر انھوں نے یونیورسٹی کی دیوار پر چسپاں کیے ہیں۔

وکیل صفائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کو ایک سازش کے تحت مقدمے میں پھنسایاگیا کیونکہ ان کے بقول ایک مذہبی سیاسی جماعت کے لوگ یونیورسٹی پر اپنا تسلط کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے موکل کے میٹرک ایف ایس سی میں بورڈز سےگولڈ میڈل یافتہ اور سکالر شپ پر بیرون ملک تعلیم کرکے لوٹے تھے۔انہیں ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن نے وزٹنگ لیکچرار بھرتی کیا جس کا چیئر پرسن کے مخالفین کو رنج تھا۔

وکیل صفائی نے بتایاکہ انہیں چودہ مارچ سنہ دو ہزار تیرہ میں گرفتار کر لیاگیا اور پھر ہائی کورٹ کے حکم پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مقدمہ کی سماعت ملتان کی سینٹرل جیل میں منتقل کر دی گئی۔

انھوں نے درخواست دائر کی ہے کہ ملزم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں اس لیے انھیں رہا کیا جائے۔بدھ کو مقدمے کی سماعت کے دوران تین افراد استغاثہ کے وکلاء کے منشی بن کر جیل میں داخل ہوگئے اور راشد رحمان ایڈوکیٹ جب دلائل دے رہے تھے تو اس وقت انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔

راشد رحمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ پولیس یا عدالت نے ان کی حفاظت کے لیے کوئی اقدام نہیں کیے ہیں لیکن وہ اس وقت تک مقدمے کی پیروی جاری رکھیں گے جب تک ان کا موکل انہیں منع نہیں کردیتا۔

انھوں نے کہا کہ ریاست اگر چاہے تو ایسے متعصب اور پرتشدد افراد پر قابو پاسکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا ہے۔

وکیل صفائی کے بقول مقدمے کےد وران انہیں دھمکیاں دینے والے افراد کی شکایت انھوں نے عدالت کے جج کے علاوہ مقامی پولیس سے بھی کی ہے لیکن ملزمان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ مقدمہ کی اگلی سماعت سترہ اپریل کو ہے۔راشد رحمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکومت نے ان کی حفاظت کے لیے اقدامات نہیں کیے لیکن وہ ہرحال میں مقدمے کی پیروی جاری رکھیں گے۔

انسانی حقوق کمشن پاکستان نے بھی مقدمے کی سماعت کےدوران وکیل صفائی کو جان سے مار دینے کی دھکمیوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ دھمکیاں دینے والے تینوں افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔

اسی بارے میں