’پاکستانی عدلیہ مذاق بن گئی،چیف جسٹس نوٹس لے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بچے کو دو مختلف تاریخوں پر عدالت میں پیش کیا گیا

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لاہور میں سیشن جج کی عدالت میں اقدام قتل کے سنگین الزام میں نامزد نو ماہ کے بچے موسیٰ سے عدالت میں روا رکھے جانے والے سلوک کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ جج اور عملے سے جواب طلبی کرے۔

دودھ پیتے بچے کو ضمانت دینا مضحکہ خیز ہے صبغت اللہ قادری

تو بنیادی عقل تو ہونی چاہیے، طارق محمود

برطانیہ میں پاکستانی نژاد معروف قانون دان صبغت اللہ قادری اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج اور معروف قانون دان طارق محمود نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کی اعلی عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لے۔

جسٹس طارق محمود نے کہا کہ جج قصور وار ہیں جبکہ صبغت اللہ قادری کا کہنا تھا کہ نو ماہ کے بچے کے انگلیوں کے نشانات لینا بچے کے جسم پرحملہ کرنے کے مترادف ہے اور اس متعلقہ عدالت اور عدالت کے عملے کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

برطانیہ کی کراؤن عدالت میں کوئین کونسل بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے کہا کہ جج کو پاکستان کے قانون سے واقف ہونا چاہیے تھا جس کے تحت سات سال سے کم عمر کے بچے کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے سے پاکستان کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی ہے اور جس انداز سے غیر ملکی خبررساں اداروں نے اس واقعے کی خبریں دی ہیں اس سے پاکستان اور پاکستان کی عدلیہ مذاق بن گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب میں ’خادم اعلیٰ‘ کی حکومت گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کے بارے میں جتن کر رہے ہیں جبکہ اس بچے نے ملک کے نام سے ایک نیا ریکارڈ بنا دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ایک شیر خوار بچے کو اقدام قتل جیسے جرم میں عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد اسے ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔

بیرسٹر قادری نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’سیشن جج کو کیا یہ نظر نہیں آیا کہ یہ بچہ ٹھیک سے دودھ کی بوتل بھی نہیں تھام سکتا اور اسے اقدام قتل جیسے جرم میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔جج دماغی طور پر کہاں تھے۔‘

ان کی رائے میں جج کو اسی وقت اس مقدمے کو خارج کر دینا چاہیے تھا۔

پاکستان کے معروف قانون دان طارق محمود نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ داری تو اس کے لیے انتہائی چھوٹا لفظ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جج صاحب میں ’کامن سینس‘ ہی نہیں تھی۔ ’جب جج کے پاس اتنی کامن سینس نہیں ہے تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ فیصلے کس قسم کے ہوتے ہیں۔‘

طارق محمود نے کہا کہ اگر جج صاحب کو قانون کا کچھ پتا نہیں تھا تو وہ عقل سے کام لے سکتے تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ لاہور میں نو ماہ کے بچے کو اقدام قتل کے مقدمے میں دو پیشیئوں پر سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔

صبغت اللہ قادری نے کہا کہ اس واقعے سے لاہور شہر کی بھی بدنامی ہوئی ہے۔

طارق محمود نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پورا عدالتی نظام ہی مذاق بن جائے گا اور لوگ عدالتوں کے فیصلوں پر سوالات اٹھانے لگیں گے کہ عدالتوں میں ایسے لوگ بیٹھے جو قانون سے بالکل لاعلم ہیں۔

’اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا عدالتی نظام مذاق بن گیا ہے۔‘

اسی بارے میں