وزیرستان: طالبان کی طالبان سے ’جنگ بندی‘ کی سعی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن امریکی ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ دونوں کے دھڑوں میں لڑائی جاری ہے

پاکستان کےقبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دواہم گروپوں کے مابین گزشتہ چند روز سے جاری پرتشدد جھڑپیں روکنے کےلیےطالبان کمانڈروں نے اپنی کوششیں تیز کردی ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین کے مابین جنگ بندی کرا دی گئی ہے تاہم مقامی طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

طالبان طالبان سے لڑ پڑے

جنوبی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کو تحریک طالبان کے سینئیر کمانڈروں نے خان سید سجنا اور شہریار گروپوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے بعض سابق اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی فریقین کے مابین جنگ بندی کرانے کے لیے کوششں تیزی کردی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر اعظم طارق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سےگفتگو کرتےہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کرا دی گئی ہے۔ اعظم طارق نے کہا کہ بعض غلط فہمیوں کے باعث طالبان دھڑوں میں اختلافات پیدا ہوئے اور نوبت لڑائی تک جا پہنچی جس میں دونوں جانب سے ہلاکتیں بھی ہوئی۔ تاہم فریقین کے درمیان اب صلح کرادی گئی ہے۔

انھوں نے ہلاکتوں کے حوالے سے رپورٹوں کو مسترد رکرتے ہوئے کہا کہ لڑائی میں دونوں طرف سے جانی نقصان ضرور ہوا لیکن اتنا نہیں جتنا میڈیا میں بتایا جا رہا ہے۔ تاہم دیگر ذرائع سے جنگ بندی کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہے۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں آج صبح سے خاموشی ہے اور شام ہونے تک وہاں کسی علاقے سے کسی جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو جنوبی اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے شوال میں فریقین نے ایک دوسرے کی گاڑیوں پر راکٹ اور بم حملے کیے تھے جس میں کم سے کم پندرہ کے قریب جنگجو مارے گئے تھے۔

مقامی ذرائع کا کہنا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران دونوں گروہوں کے مابین جھڑپوں میں چالیس کے قریب افراد مارے گئے ہیں۔ پہلے یہ لڑائی صرف جنوبی وزیرستان تک محدود تھی لیکن اب اس کا دائرہ دیگر علاقوں تک بھی پھیل چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں دھڑوں کے مابین ایک دوسرے کے علاقوں میں مداخلت کرنے پر بہت پہلے سے اختلافات چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے درمیان کراچی میں بھی لڑائی ہوچکی ہے۔

تاہم ابھی تک تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ان جھڑپوں کے حوالے سے کوئی باضابط طورپر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں