’بے داغ‘ طالبان رہا ہو جائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طالبان گروہوں نے ابھی صرف فائر بندی کی ہے: رحیم اللہ یوسفزئی

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ’کلئیر قرار‘ دیے گئے طالبان کے بہت سے غیر عسکری ساتھی طالبان کے ساتھ اگلی ملاقات سے قبل رہا ہو جائیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یوسف شاہ نے بتایا کہ جب حکومت کے ساتھ آخری ملاقات ہوئی تھی تو انھوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ جس دن ہم دوبارہ بیھٹیں گے اس سے ایک روز قبل ان (کلئیر قرار دیے گئے) قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔

یوسف شاہ کے مطابق حکومت نے کہا تھا کہ ’تحقیقاتی اداروں کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کریں۔ جتنے زیادہ (افراد) رہا ہو سکے، کوشش کی جائے گی کہ انھیں رہا کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے سات سو پینسٹھ غیر عسکری قیدیوں کی دو فہرستیں حکومت کو فراہم کی تھیں اور حکومت اس سے قبل 19 افراد رہا کر چکی ہے۔’وہ یقیناً قبائلی تھے لیکن وہ طالبان کی فہرست میں موجود افراد نہیں تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنگ بندی کے بغیر مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا: یوسف شاہ

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار نے مذید کہا کہ طالبان سے توقع ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ بندی میں توسیع کریں گے کیونکہ اس کے بغیر مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انھوں نے بتایا کہ فی الحال حکومت سے غیر رسمی رابطہ بھی نہیں لیکن سنیچرسےآئندہ ملاقات کے لیے کوششوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ رہنے والے سینئر تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے طالبان کے ساتھیوں کی رہائی اور مذاکرات کے لیے امن زون کا قیام اب بھی غیرحل شدہ مطالبہ ہے۔ ’ اگر حکومت طالبان کے چند ساتھیوں کو رہا کر دے تو شاید طالبان جنگ بندی میں توسیع کر دیں اور مذاکرات کا اگلا دور بھی طے پاسکے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ ایک ہفتہ قبل اطلاع ملی تھی کہ 23 ناموں کی نشاندہی ہوئی ہے مگر کئی نام ایسے ہیں جن کے بارے میں پوری اطلاعات ہی نہیں کہ وہ کون ہیں کہاں کے رہنے والے ہیں۔ دو تین واقعات نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا، لیکن حکومت مذاکراتی عمل کے لیے سنجیدہ نظر آتی ہے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ طالبان گروپوں کی باہمی چپقلش نے بھی مذاکرات پر اثر ڈالا ہے اور لگتا ہے کہ طالبان گروہوں نے ابھی صرف فائر بندی کی ہے ایک پائدار حل کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی دھڑے کی جانب سے مذاکرات کی مخالفت نہ ہو۔

اس سوال پر کہ طالبان کے عسکری قیدیوں کی تعداد کتنی ہے اور کیا حکومت نے اپنے قیدیوں کی کوئی فہرست طالبان کے حوالے کی ہے، رحیم اللہ یوسفزئی نے بتایا کہ طالبان کے ساتھیوں میں سے ایک بڑی تعداد فوج کی تحویل میں ہے۔

’ غیر عسکری قیدیوں کی نشاندہی ہو جائے گی، فوج کی مرضی کے بغیر کوئی رہا نہیں ہو سکتا۔ایسے کافی لوگ ہوں گے جن کے بارے میں کوئی بڑا الزام نہ ہو۔ ان کی رہائی ہو جائےگی، لیکن عسکری قیدیوں کی رہائی اس مرحلے میں نہیں ہوگی۔ اگر مذاکرات آگے بڑھے تو مزید قیدی رہا ہوں گے۔‘

Image caption عسکری قیدیوں کی رہائی اس مرحلے میں نہیں ہوگی

طالبان کی تحویل میں موجود حکومتی، فوجی اور عام شہریوں کی تعداد کیا ہے؟ یہ معلوم کرنے کے لیے بارہا حکومت اور فوج سے رابطہ کیا گیا لیکن وہ اس کا جواب دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔

رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق یہ تعداد طالبان کے ساتھیوں سے بہت کم ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ مذاکرات کا حصہ تھے تو انھیں بطور رکن صرف یہ بتایا گیا تھا کہ حکومت اپنے قیدیوں کی فہرستیں تیار کر رہی ہے۔

طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد نے چار روز قبل اپنے بیان میں تین بنیادی مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان مطالبات میں مذاکرات کے لیے فری پیس زون کا قیام، غیر عسکری قیدیوں کی غیر مشروط رہائی اور تحریک طالبان کے خلاف جاری کاروائیوں کی فوری روک تھام شامل ہیں۔

تجزیہ نگروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کامیاب ہوگا یا نہیں اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ معاملہ ’ کچھ دو اور کچھ لو‘ کی بنیاد پر ہی کسی نتیجے پر پہنچےگا۔

اسی بارے میں