تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ کے سیشن میں پیش ہو گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی کے مقابلے سینٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو حکومتی جماعت مسلم لیگ ن پر واضح اکثریت حاصل ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا سینٹ کا سیشن پیر کو دوبارہ شروع ہو رہا ہے جس میں امکان ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف تحفظِ پاکستان آرڈیننس منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس آرڈیننس کی سخت مخالفت کی ہے۔

جوہری تحفظ قومی سلامتی سے منسلک ہے: نواز شریف

سینیٹ کے چیئرمین سید نیر بخاری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشاہد حسین سید سائبر سیکورٹی بل سال 2014 پیش کریں گے۔

اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر افراسیاب خٹک اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کو دہشت گردی سے فوری طور پر پاک کرنے پر زور دے۔

خیال رہے کہ حکومت ملک میں دہشت گردی کےخلاف تحفظ پاکستان آرڈیننس پہلے ہی قومی اسمبلی سےسادہ اکثریت کے ساتھ پاس کروا چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حزبِ مخالف کی بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف نے بھی پی پی او کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا تھا

سینیٹ سے منظوری کی صورت میں مذکورہ آرڈیننس فوری طور پر ملک بھر میں نافذ ہوجائےگا، جس کا اطلاق ان افراد پر بھی ہوگا جو 2013 سے سیکورٹی اداروں کے زیرحراست ہیں۔

یاد رہے کہ جب قومی اسمبلی سے مذکورہ آرڈیننس منظور ہوا تواس وقت نہ صرف حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم نے مشترکہ طور پر اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا تھا، بلکہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف نے بھی اس آرڈیننس کو کالا قانون قراردیتے ہوئے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی سے آرڈیننس پاس ہونے کے بعد خبردار کیا ہے کہ جب حکومت مذکورہ قانون کو منظوری کے لیے سینٹ میں لائےگی تواس کی بھر پور مخالفت کی جائےگی۔ قومی اسمبلی کے مقابلے سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو حکومتی جماعت مسلم لیگ ن پر واضح اکثریت حاصل ہے۔

تاہم بعض قانونی ماہرین کے مطابق سینیٹ سے ناکامی کی صورت میں حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈننس کومنظوری کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرے جہاں مسلم لیگ ن اور ان کی اتحادی جماعتوں کو سادہ اکثریت حاصل ہے۔

اسی بارے میں