ملاقات آج، ’ایسی ملاقاتوں سے دیا جانے والا پیغام اہم ہوتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اپوزیشن جماعیتں واضح کر چکی ہیں کہ وہ سینٹ کے جاری اجلاس میں ممکنہ طور پر پیش ہونے والے پی پی او کو اپنی اکثریت کے بل بوتے پر مسترد کر دیں گی

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا مقصد غیر جمہوری قوتوں کو پیغام دینا ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے اکٹھی ہیں۔

بی بی سی گفتگو کرتے ہوئےسابق صدر کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ سابق صدر وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس قسم کی ملاقاتوں کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تاہم اس قسم کی ملاقاتوں سے جو پیغام جاتا ہے وہ اہم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورتحال کے تناظر میں جبکہ ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ سویلین اور جمہوری حکومت کو کچھ اطراف سے کوئی خطرہ ہے، تو اس طرح کے ماحول میں آصف علی زرداری اور وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ غیرجمہوری قوتوں کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔‘

یاد رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے پر فوج کی بے چینی اور آرمی چیف کے بیانات اپنی جگہ، لیکن وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں موجود اہم وزرا کے بیانات نے یہ تاثر دیا ہے کہ فوج اور حکومت کی اندرونی ناراضگی جمہوری حکومت کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

ایسے میں طالبان سے مذاکرات اور اب تحفظ پاکستان آرڈیننس کے ایوان زیریں سے منظور ہو جانے پر حکومت سے نالاں اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی ایک بار پھر نواز شریف کی حکومت کی حمایت میں آواز بلند کرے گی۔ آصف علی زرداری کی وزیراعظم سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن تحفظ پاکستان آرڈیننس کو پاس کروانے کے لیے حکومت کی عجلت پر نہ صرف پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بلکہ حکومتی اتحاد میں شامل فضل الرحمن بھی میاں نواز شریف کی حکومت سے ناراض ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں واضح کر چکی ہیں کہ وہ سینیٹ کے جاری اجلاس میں ممکنہ طور پر پیش ہونے والے پی پی او کو اپنی اکثریت کے بل بوتے پر مسترد کر دیں گی۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات اور پی پی او ملاقات کے ایجنڈے میں شامل ہیں یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا تاہم بات چیت ملک کی موجودہ صورتحال اور تمام معاملات پر ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی کا پی پی او پر واضح موقف ہے اور ان کی جماعت تحفظ پاکستان آرڈیننس موجودہ صورت میں پاس نہیں ہونے دے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے اس آرڈیننس کے لیے مناسب ترامیم تیار کی ہیں جنھیں پی پی او کے سینٹ میں پیش ہونے کے بعد سامنے لایا جائےگا۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں باوجود لاتعداد باہمی اختلافات کے جب بھی سول اور فوجی قیادت کے درمیان تناؤ کی کیفیت پیدا ہوئی، میاں نواز شریف نے بحیثیت اپوزیشن لیڈر ہمیشہ جمہوری حکومت کا ساتھ دیا حتیٰ کہ اس کی وجہ سے انھیں فرینڈلی اپوزیشن کا لقب بھی ملا۔

اسی بارے میں