مفرور آدم خور بھائی بھی گرفتار

Image caption یہ بھائی پہلے بھی سزا کاٹ چکے ہیں

جنوبی پنجاب کے ضلع بھکر کے علاقے دریا خان میں انسانی مردے کھانے والے ملزم عارف کے مفرور بھائی فرمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقامی لوگوں نے ملزم بھائیوں کے گھر پر حملہ کر کے بیرونی دیوار مسمار کر دی اور گھر میں توڑ پھوڑ کی ہے۔

مقامی عدالت نے دونوں ملزموں عارف اور فرمان کو سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر دریا خان پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

یہ دونوں بھائی پہلے بھی قبروں سے مردے نکال کر کھانے کےالزام جیل کاٹ چکے ہیں، تاہم اس بار پولیس نے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ، مذہبی جذبات کی توہین اور اندیشۂ نقصِ امن کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ضلعی پولیس افسر امیر عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دفعات کے تحت انھیں عمر قید یا اس سے بھی سخت سزا ہو سکتی ہے۔

35 سے 40 برس کے یہ دونوں بھائی 2011 میں ایک عورت کی لاش کو پکا کر کھانے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے اور ان کے گھر سے عورت کی ادھ کھائی لاش اور انسانی گوشت کا سالن برآمد ہوا تھا۔

پولیس حکام کا کہناہے کہ پاکستان میں آدم خوری کے خلاف کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ ضلعی پولیس افسر نےکہاکہ 2011 میں اندیشۂ نقص امن اور جو دیگر دفعات عائد کی گئی تھیں ان کےمطابق ملزموں کو ایک ایک سال کی سزا ملی تھی۔

ملزمان چھ مہینے پہلے جیل کاٹ کر اپنے گھر واپس آ چکے تھے۔گذشتہ روز ان کے گھر سے مردہ گوشت کی بدبو آنے پر پولیس نے چھاپہ مار کے ایک بھائی کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ ان کے گھر سے ایک کم سن بچے کا سر برآمد ہوا۔ پولیس کےمطابق بظاہر ملزمان اس بچے کا دھڑ کھا چکے ہیں۔

ایک ملزم بھائی فرمان فرار ہوگیا تھا جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے صبح ان دونوں ملزم بھائیوں کو عدالت پیش کیا۔ اس موقعے پر میڈیا کے مقامی نمائندوں نے ان سے بات کی کوشش کی۔

ملزم ان سے مختلف اور بے ربط باتیں کرتے رہے، کبھی کہتے کہ انھیں مخالفین نے پھنسایا ہے، کبھی کہتے کہ بچے کا سر اپنی آنکھوں سے چھونے کے لیے قبر سے نکال کر لائے تھے۔

پولیس نے ملزمان کے گھر سے جانوروں کی ہڈیاں بھی برآمد کی ہیں۔ پولیس تفتیش کےمطابق ملزموں کو جب انسانی لاشیں نہیں ملتی تھیں تو وہ مردار کتے اوربلیاں پکا کر کھاتے تھے۔

اسی بارے میں