لاپتہ کیس: ’فوج کی درخواست پر مقدمے کو ختم کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاپتہ ہونے والے ان 35 افراد میں سے صرف 6 افراد کا سراغ لگایا جا سکا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے مالاکنڈ میں واقع فوج کے حراستی مرکز سے جبری طور پر 35 افراد کو اپنے ساتھ لےجانے کے مقدمے میں ملوث فوجی اہلکار کے خلاف درج ہونے والا مقدمہ ختم کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کیسے عدالت کے نوٹس میں لائے بغیر اس مقدمے کو ختم کر دیا گیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مالاکنڈ میں واقع فوج کے حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے 35 افراد کے مقدمے کی سماعت کی۔

یاد رہے کہ نائب صوبیدار امان اللہ خان اُس ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے جو مالاکنڈ میں فوج کے حراستی مرکز سے زبردستی 35 افراد کو اپنے ساتھ لےگئی تھی۔ مذکورہ فوجی اہلکار کے خلاف مقدمہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے حکم پر درج کیاگیا تھا۔

لاپتہ ہونے والے ان 35 افراد میں سے صرف 6 افراد کا سراغ لگایا جا سکا ہے جبکہ باقی افراد کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوج کی تحویل میں نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ میں ڈی سی او مالاکنڈ کی طرف سے پیش ہونے والی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ فوج کی درخواست پر اس مقدمے کو ختم کیاگیا ہے تاہم اس کی مزید تفتیش کے لیے یہ معاملہ فوج کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

سماعت میں وزارت دفاع کے ڈائریکٹر لیگل محمد عرفان خالد کی جانب سے ایک خط بھی پیش کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نائب صوبیدار امان اللہ فوج کی تحویل میں ہیں اور اُن کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہوگی۔

بینچ کے سربراہ نے ڈپٹی انارنی جنرل وقاص ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ مذکورہ شحص کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہو رہی ہے لیکن اس سے پہلے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اس ضمن میں قانونی تقاضے پورے کیےگئے۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں