نواز شریف اور زرداری کی اہم ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ pid
Image caption نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنما بھی شامل تھے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات میں جمہوریت کے استحکام کے لیے بات چیت سمیت طالبان کے ساتھ مذاکرات، تحفظ پاکستان آرڈیننس اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

رضا ربانی نے کہا کہ یہ ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ تمام جہوری قوتوں کو، چاہے وہ حزب اختلاف کی ہوں یا حکومت میں، انھیں اکٹھے مل کر جمہوری عمل کو آگے بڑھانا ہے اور مستحکم کرنا ہے۔

رضا ربانی نے بتایا کہ ’وزیراعظم نے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی زاہد حامد سے کہا ہے کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کریں اور ان کی رائے لے کر مختلف قوانین میں ترامیم کریں۔‘

رضا ربانی نے اس تاثر کو رد کیا کہ ان کی جماعت طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل پر الگ رائے رکھتی ہے: ’پیپلز پارٹی اے پی سی میں شامل تھی اور ان کے فیصلوں کو مانتی ہے تاہم اگر ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ کہیں کوئی جھول ہے یا کسی چیز کی نشاندہی ضروری ہے تو وہ اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے کرتی رہے گی۔‘

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کی معاونت کے لیے ان کی جماعتوں کے سینئیر اراکین موجود تھے تاہم وزیرداخلہ چوہدری نثار اس نشست میں شامل نہیں تھے۔ رضا ربانی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ جب وزیراعظم صاحب خود موجود تھے تو کسی وزیر کی ضرورت نہیں رہتی۔

وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی معاملات کے علاوہ سندھ میں جاری مختلف ترقیاتی پراجیکٹس پر بھی بات چیت ہوئی۔

انھوں نے تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے معاملے پر بھی بات چیت کی تاہم حکومت کا خیال ہے کہ یہ اتنا سنگین مسئلہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان علیحدہ ملاقات بھی ہوئی اور وزیراعظم نے ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

اسلام آباد سے نامہ نگار عنبر شمسی نے بتایا کہ رضا ربانی نے ذرائعِ ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے تحفظ پاکستان بل پر پیپلز پارٹی اور سینیٹ میں موجود دیگر جماعتوں کے تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعتیں مل کر تحفظ پاکستان آرڈیننس پر اپنی تجاویز پیش کریں گی۔

جہوریت کو لاحق خطرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا جمہوری عمل اور آئین کی بقا میں ہے اور اگر کبھی بھی کوئی ایسا وقت آیا تو ہم جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

وفود کی سطح پر بات چیت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، سینیٹر رضا ربانی اور مراد علی شاہ شامل تھے، جب کہ حکومت کی جانب سے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد اور فواد حسن نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے بقول اس ملاقات میں تحفظ پاکستان آرڈیننس سمیت کراچی آپریشن، ملک میں امن و امان اور انسداد دہشت گردی پر بات چیت ہوئی۔

اس ملاقات سے قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اس قسم کی ملاقاتوں کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تاہم ان سے جو پیغام جاتا ہے وہ اہم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورتحال کے تناظر میں جب ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ سویلین اور جمہوری حکومت کو کچھ اطراف سے خطرہ ہے، تو اس طرح کے ماحول میں آصف علی زرداری اور وزیراعظم نواز شریف کی ملاقات واضح پیغام دیتی ہے کہ غیرجمہوری قوتوں کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔‘

یاد رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے پر فوج کی بے چینی اور آرمی چیف کے بیانات اپنی جگہ، لیکن وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں موجود اہم وزرا کے بیانات نے یہ تاثر دیا ہے کہ فوج اور حکومت کی اندرونی ناراضگی جمہوری حکومت کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

ایسے میں طالبان سے مذاکرات اور اب تحفظ پاکستان آرڈیننس کے ایوانِ زیریں سے منظور ہو جانے پر حکومت سے نالاں اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی ایک بار پھر نواز شریف کی حکومت کی حمایت میں آواز بلند کرے گی۔

آصف علی زرداری کی وزیراعظم سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ لیکن تحفظ پاکستان آرڈیننس کو پاس کروانے کے لیے حکومت کی عجلت پر نہ صرف پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بلکہ حکومتی اتحاد میں شامل فضل الرحمٰن بھی میاں نواز شریف کی حکومت سے ناراض ہیں۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل نواز شریف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچ گئے تھے۔ نواز شریف نے عمران خان سے یہ ملاقات ایک ایسے وقت کی تھی جب طالبان سے مذاکرات کے لیے انھیں سیاسی حمایت اور تعاون کی ضررورت تھی۔

آصف علی زرداری سے ملاقات کا وقت بھی سیاسی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ جنرل مشرف پر غداری کے مقدمے کے تناظر میں پیدا ہونے والے تناؤ اور استحکام پاکستان آرڈیننس کے قومی اسمبلی میں منظور کیے جانے کے بعد حکومتی جماعت سیاسی تنہائی کا شکار ہوتی نظر آ رہی تھی۔ مزید براں ملک کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جہاں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہے وہاں چند دن قبل ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں وزیر اعظم کو سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے کا پابند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں