تحفظ پاکستان قانون پر پی پی کی ہاں بھی اور نہ بھی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتاح ملک کا کہنا ہے کہ تحفظِ پاکستان قانون پر عمل درآمد کا فیصلہ ہوچکا ہے

پاکستان میں مجوزہ تحفظِ پاکستان قانون پر وفاق میں اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا غیر واضح موقف نظر آتا ہے۔

پی پی پی وفاق میں اس کی مخالفت کرتی ہے جبکہ کراچی میں جاری آپریشن میں اس قانون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

تحفظِ پاکستان بل (پی پی او) کی بنیاد کراچی میں آپریشن کے فیصلے کے ساتھ رکھی گئی تھی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیرصدارت کابینہ کے خصوصی اجلاس میں مؤثر قانون سازی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے تجاویز دینی تھیں، لیکن بعد میں صدرِ پاکستان ممنون حسین نے تحفظِ پاکستان آرڈیننس جاری کر دیا، جس کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام بتایا گیا۔

قومی اسمبلی اس بل کو قانونی شکل دینے کی منظوری دے چکی ہے جبکہ سینیٹ میں اس کو روکنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دونوں جماعتیں اس وقت صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں برسراقتدار ہیں جہاں یہ قانون نافذالعمل ہے۔

کراچی میں گذشتہ چھ ماہ سے جاری ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا اور قبضوں کے خلاف آپریشن جاری ہے لیکن پولیس ریکارڈ کے مطابق ایک مقدمے میں بھی تحفظِ پاکستان آرڈیننس کے تحت گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔

دو اپریل تک پولیس نے ساڑھے نو ہزار کے قریب ملزمان کو قتل، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور دیگر الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتاح ملک کا کہنا ہے کہ تحفظِ پاکستان قانون پر عمل درآمد کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر کسی قدر عمل درآمد بھی رہا ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر سکندر مندہرو کا کہنا ہے کہ آپریشن اپنے طور پر چل رہا ہے، اس کے اپنے فارمولے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ قانون کے تحت وزیراعلیٰ کے احکامات کے مطابق ہیں۔

تحفظِ پاکستان قانون کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مخالفت اور سندھ میں حمایت کے بارے میں سکندر مندھرو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت جو قانون بناتی ہے یا آرڈیننس جاری کرتی ہے اس کا اطلاق چاروں صوبوں پر ہوتا ہے، کوئی بھی جماعت اسمبلی میں بیٹھ کر اس کی مخالفت تو کر سکتی ہے لیکن اگر وہ منظور ہو جائے تو نافذالعمل ہوتا ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس قانون میں گرفتار افراد کو جو 90 روز زیر حراست رکھنے کی شق ہے، پاکستان پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ کسی بھی ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔

سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ نے تحفظ پاکستان قانون کے خلاف قرار داد جمع کر رکھی ہے۔

سندھ میں قائدِ حزب اختلاف فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ تحفظِ پاکستان کے نام پر پاکستانیوں میں عدم تحفظ پیدا کیا جا رہا ہے، سندھ حکومت نے یہ بہت ناانصافی کی ہے کہ کراچی میں پہلے روز سے آرڈیننس پر عمل درآمد شروع کر دیا، اس کے نفاذ سے پہلے ہی ایم کیو ایم کے کارکنوں کو اغوا اور لاپتہ کیا گیا اور ان کی ماورائے عدالت ہلاکتیں ہوئیں۔

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت کا دباؤ ہے تو سندھ حکومت مکمل نیک نیتی سے اس بات کا اظہار کرے کہ وہ وفاقی حکومت کے قانون پر عمل درآمد کر رہی ہے، بقول ان کے کاش طالبان، انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف بھی اسی طرح کارروائی ہوتی، تو پھر وہ سمجھتے کہ یہ کارروائیاں کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں۔

سندھ اسمبلی میں کراچی کی دوسری بڑی نمائندہ جماعت، تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنما حفیظ الدین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی کو ایک بڑے عرصے تک زیرحراست رکھنے سے صورتِ حال بہتر ہو جائے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن کی بحالی کے لیے رینجرز کو پانچ تھانے دیے جانے چاہیے تھے اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جو مدد کرنی چاہیے تھی وہ سندھ حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت فراہم کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس کی جئے سندھ متحدہ محاذ سمیت کئی قوم پرست جماعتیں بھی مخالفت کر رہی ہیں اور اس کے خلاف دو بار شٹر بند ہڑتالیں بھی کی گئی ہیں۔ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

اسی بارے میں