انسانی سمگلنگ عروج پر، حکومت بے بس یا بے فکر

Image caption اقوام متحدہ کی تحقیقات کے مطابق یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ میں غیر قانونی ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی شرح گذشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد بڑھ چکی ہے

وزیرآباد کے ایک چھوٹے سے محلے میں 25 سالہ ملک عمران اپنی غربت سے تنگ آ گئے تھے مگر جب ان کی دوستی ایک مقامی انسانی سمگلر سے ہوئی تو انھوں نے بہتر مستقبل کےسپنے دیکھنا شروع کر دیے۔

اب نہ سپنے باقی ہیں اور نہ ہی مستقبل۔

انسانی سمگلر کے جھانسے میں آ کر انھوں نے اپنی تمام جمع پونجی پاکستان سے یورپ غیر قانونی ہجرت کرنے کی غرض سے اس کے حوالے کر دی۔ سمگلر نے عمران کو پیدل ایران کے پہاڑی راستے سے ترکی بھیجا۔ شدید سردی میں عمران کے ہاتھ پاؤں کی انگلیاں گل گئیں لیکن وہ سبز باغ نہ ملے جو اسے دکھائے گئے تھے۔

عمران بتاتے ہیں: ’ان لوگون نےترکی میں مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا، نہ دوائی ملی اور نہ ہی کھانے پینے کو کچھ ملا، شاید وہ یہی چاہتے تھے کہ میں مر جاؤں تاکہ میرے گھر والوں تک ان کی شکایت نہ پہنچ سکے۔‘

ترکی کی پولیس نے عمران کو برآمد کر کے گرفتار کر لیا۔ ایک مدت تک قید اور بیماری میں تڑپنے کے بعد کسی نہ کسی طرح اس کے گھر والے خود اسے واپس لے کر آئے۔ جان تو بچ گئی لیکن ہاتھ پاؤں کی تمام انگلیاں کٹ چکی تھیں۔

آج عمران مفلسی اور معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی اداس آنکھوں میں پچھتاوے کے ساتھ ایک عجیب سی بےبسی جھلکتی ہے۔

’ہمارے گھر میں بہت غربت ہے، میری پانچ بہنیں ہیں، میں نے سوچا تھا باہر جا کر کماؤں گا تو ان کی شادی کروا سکوں گا، اب تو خود ہی بوجھ بن گیا ہوں۔‘

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کی تحقیقات کے مطابق یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ میں غیر قانونی ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی شرح گذشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد بڑھ چکی ہے۔

اور یہ صرف ان لوگوں کی تعداد ہے جو پکڑے جانے کے بعد ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو انسانی سمگلنگ کے خلاف بین الاقوامی قوانین کےمعیار پر پورا اترنے میں دشواریوں کا سامنا ہے اور اگر صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں امکانات ہیں کہ پاکستان کو بین الاقوامی امداد کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے۔

گذشتہ ہفتے سے ایف آئی اے لاہور میں مبینہ انسانی سمگلنگ نیٹ ورکس پر چھاپے مار رہی ہے جس میں سے بیشتر پکڑے جانے والے ملزم باقاعدہ ٹریول ایجنسیوں کی آڑ میں اپنا کام کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ جہاں حکومت کریک ڈاؤن کے ذریعے قانونی جال تنگ کر رہی ہے وہاں انسانی سمگلروں کا جال بھی اب بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے اور جدید بھی ہو گیا ہے۔

نقلی ویزا اور سفری دستاویزات مہیا کرنے کے ساتھ حال ہی میں حج فراڈ بھی سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کر کے ان سے سعودی عرب سفر کے لیے جعلی کاغذات کے بدلے لاکھوں روپے اینٹھے جا رہے ہیں۔

Image caption ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان چھاپوں میں جدید ٹیکنالوجی سے تشکیل دیے گئے ہولوگرام ویزے بھی برآمد ہوئے ہیں جنھیں پکڑنا بہت مشکل ہے

ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ ان چھاپوں میں جدید ٹیکنالوجی سے تشکیل دیے گئے ہولوگرام ویزے بھی برآمد ہوئے ہیں جنھیں پکڑنا بہت مشکل ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے پاکستان میں کبھی نقلی ویزوں میں اتنی جدید اور مہنگی ٹیکنالوجی استعمال نہیں ہوئی۔ حکام کو فکر ہے کہ انسانی سمگلنگ کے جرائم میں ملوث افراد کے وسائل بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ ان کی روک تھام کرنے والے اداروں کے وسئال میں کمی واضح ہے۔

جہاں انسانی سمگلروں کا سراغ لگانے میں اب تک بنیادی ہتھیار ’ہیومن انٹیلی جنس‘ ہے وہاں ایف آئی اے میں اب تک ایک ہزار اہلکاروں کی اسامیاں اب تک پر نہیں کی گئیں۔

ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا تھا: ’ہیومن سمگلنگ اور ٹریفیکنگ کے کیس بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہاں سے جانے کے فیکٹرز بڑھ رہے ہیں، لیکن ہمارے پاس اس کی روک تھام کے لیے وہ جدید مشینری بھی نہیں ہے جیسے یورپین ممالک میں پائی جاتی ہے۔‘

تحقیقات کے مطابق سب سے زیادہ خطرناک انسانی سمگلنگ رنگ مرکزی پنجاب میں کام کر رہے ہیں جو لوگوں سے لاکھوں روپے کے عوض انھیں بھیڑ بکریوں کی طرح خطرناک راستوں سے کوئٹہ، پھر ایران کے تفتان بارڈر اور وہاں سے ماکو کے پہاڑوں سے ترکی پہنچاتے ہیں۔ سفر پیدل، کشتیوں میں اور کبھی تو سامان والے کنٹینروں میں کیا جاتا ہے۔ راستہ اتنا دشوار ہے کہ اکثر لوگ منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی مارے جاتے ہیں یا تو بڑی تعداد میں دوسرے ممالک کی سرحدوں پر گرفتار ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ سب کچھ پہلے سے کسی غریب کو نہیں بتایا جاتا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ یہ سمگلر اپنے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کے وجہ سے کھلم کھلا اپنا کام کر رہے ہیں۔ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا اور بدعنوانی ان کے ہتھیار ہیں جن سے وہ ایسے لوگوں کا با آسانی شکار کر رہے ہیں جو ملک میں بڑھتی لاقانونیت اور مفلسی کے شکنجے سے فرار ہونے کے لیے اپنا جان و مال لگانے کو تیار ہیں۔

ملک عمران کو معذور کرنے والا انسانی سمگلر آج بھی ان کے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر اپنا غیر قانونی کاروبار کر رہا ہے۔ عمران کے گھر والوں نے بتایا کہ ایف آئی اے میں رپورٹ درج کروانے کے باوجود اسے چند ہی دن بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

عمران کے کٹی انگلیاں اور اس کا حشر تمام محلے نے دیکھا، لیکن اس کے باوجود آج بھی وہاں کے کم عمر لڑکے اپنے خواب اور اپنے پیسے تھام کر اسی انسانی سمگلر کے گھر کے باہر کھڑے ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں