کارکنوں کی ہلاکت پر ایم کیو ایم کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد ایم کیو ایم کے کارکن تھے

کراچی سے جمعے کی صبح دو تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ کورنگی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں لاشیں کورنگی کراسنگ کے قریب واقع برساتی نالے سے ملی ہیں، جن کی شناخت ایم علی اور سید قائم کے نام سے کی گئی ہے۔

دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہپستال منتقل کر دی گئی ہیں۔

سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما اور قائد حزب اختلاف فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد ان کے کارکن تھے، جنھیں کچھ عرصہ قبل اغوا کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم نے کارکنوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف جمعے کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا بھی اعلان کیا تھا، لیکن کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔

اس سے پہلے جمعرات کو کراچی پریس کلب کے سامنے ایم کیو ایم کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا، جس میں لاپتہ کارکنوں کے لواحقین سمیت ایم کیو ایم کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’موت کے فرشتے سادہ لباس میں بڑی بڑی سرکاری گاڑیوں میں بغیر شناخت ان کے علاقوں میں آتے ہیں لیکن کسی ایک چھاپے میں بھی مزاحمت نہیں ہوئی، حکومت اور پولیس ان کے سامنے بے بس ہیں تو پھر ہمیں چھوڑ دیں، پھر وہ سول ڈریس میں اہلکار ہوں گے اور ہم۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں اور طالبان کے اڈوں پر جاتے ہوئے ان اہلکاروں کے پیر کپکپاتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں انھیں چھاپے کے دوران گولا بارود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

انھوں نے کہاکہ اس احتجاج کو ایک ٹریلر سمجھا جائے کیونکہ کل فلم بھی چل سکتی ہے، اور وہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے کارکنوں کی غیرقانونی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں اور اگر ایسا نہ ہوا تھا پھر اس کے بعد ایک دھرنا نہیں بلکہ دھرنے ہی دھرنے ہوں گے۔

ایم کیو ایم کے رہنما اور رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی نے اپنے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ پاکستان قانون ان پر مسلط نہ کیا جائے، اس قانون کے تحت ان کارکنوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے۔

’پاکستان کی تاریخ بڑی بے رحم ہے، تاریخ نے یہ سکھایا اور بتایا ہے کہ جس حکومت نے بھی اپنے اقتدار میں سیاہ قوانین کو اسمبلیوں میں پاس کرایا ہے سب سے پہلے خود وہی حکمران اس قانون کی زد میں آیا ہے۔‘

حیدر عباس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر ایم کیو ایم کے کارکن مار دیے گئے ہیں تو بھی بتایا جائے اور کہیں حراست میں رکھا گیا ہے تو اس سے بھی آگاہ کیا جائے اور انھیں عدالتوں پیش کر کے آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

صوبائی اسمبلی اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن اشفاق منگی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر کے سندھ کے حالات بلوچستان طرز کے نہ کیے جائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ لوگ بھی ظلم و ستم کے باعث بھٹک گئے تو پھر کیا ہوگا؟

اسی بارے میں