خیبر پختونخوا: حاضر سروس ڈی ایس پی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملزم کے خلاف نیب خیبر پختونخوا میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی

قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے کروڑوں روپے کے غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں پولیس محکمے کے حاضر سروس ڈی ایس پی رجب علی کو گرفتار کر لیا ہے۔

رجب علی موجودہ وقت میں بطور ڈی اےس پی (سٹی) ضلع مردان تعینات تھے۔

قومی احتساب بیورو کی جانب سے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے اثاثوں کے بارے میں اس وقت انکشاف ہوا جب پشاور ہائی کورٹ کو ان کے خلاف عوام کو حبس بے جا میں رکھنے کی شکایات موصول ہوئیں۔

بیان کے مطابق فاضل عدالت نے ملزم کی زیادتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اثاثوں کی چھان بین کرنے کےلیے کیس ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا کو بھیجا۔

فاضل عدالت کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے نیب خیبر پختونخوا نے انکوائری کی جس سے ان کی غیر قانونی اثاثوں کے بارے میں پتہ چلا کہ ملزم نے بطور ایس ایچ او حیات آباد پشاور مبینہ طورپر مذکورہ اثاثے بنائے۔

ملزم کے خلاف نیب خیبر پختونخوا میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پشاور کی ایک احتساب عدالت سابق انسپکٹر جنرل پولیس ملک نوید کو اسلحہ خریداری میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج چکی ہے۔

سابق انسپکٹر جنرل پولیس ملک نوید کو گذشتہ سال نومبر میں احتساب بیورو نے گرفتار کیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ ان کے دور میں اسلحہ گاڑیوں اور دیگر سکیورٹی آلات کی خریداری کے لیے قائم پرچیز کمیٹی نے بڑے پیمانے پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی تھیں۔

یہ خریداری سنہ 2008 اور 2009 میں کی گئی تھی۔

اسی بارے میں