تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ میں پیش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحفظ پاکستان آرڈیننس پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے علاوہ حزب اقتدار کی بعض اتحادی جماعتوں کو بھی تحفظات ہیں

حکومت نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تحفظ پاکستان بل کو منظوری کے لیے سینٹ میں پیش کر دیا ہے، جب کہ حزب اختلاف نے بل کو کالا قانون قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کی نمائندگی کرتے ہوئے دو ہفتے قبل قومی اسمبلی سے منظور شدہ تحفظ پاکستان بل کو جمعے کو سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کر دیا۔

انھوں نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ بل میں بہت سی ترامیم کی گئی ہیں، اس کے علاوہ بہت ساری شقیں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 سے لی گئی ہیں۔

بل کی مخالفت میں دلائل دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر میاں رضا ربانی نے بل کو انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سیکورٹی اداروں کو تشدد استعمال کرنے کی کھلی چھٹی دی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بل کی منظوری سے ملک کے اندر افراتفری اور بے چینی بڑھ جائےگی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ 27 ایسے معاہدے ہیں جو اس بل سے براہِ راست متاثر ہوں گے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پر نظرثانی کرے اور اسے کو آئین و قانون کے مطابق بنائے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حاجی عدیل نے کہا کہ اس بل کے ذریعے عوام سے ان کے تمام آئینی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔

انھوں نے بل کو مسترد کرتے ہوئے تجویز دی کہ پورے ہاؤس پر مشتمل ایک کمیٹی بنا کر بل کو اس کے حوالے کیا جائےتا کہ تمام ممبران جا کر اسے بہتر بنانے کے لیے تجاویز دے سکیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان میں ساٹھ ہزار لاشیں گرائی ہیں، ان کے خلاف تواس قانون کا استعمال نہیں ہوگا بلکہ غریب لوگ اس کا نشانہ بنیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس بل پر کسی صورت میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف پہلے ہی بہت سے قوانین موجود ہیں لیکن آج تک نہ تو کوئی دہشت گرد گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی کسی کو سزا ہوئی ہے۔ بقول طاہرمشدی کے اس قانون سے صرف غریب عوام متاثر ہوں گے۔

بعد ازاں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر بلوچ نے بل پر مزید غور و خوض کے لیے اسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے حوالے کر دیا۔

مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل آغانے تحفظ پاکستان بل کو متعلقہ کمیٹی کے حوالے کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا کہ جس جلد بازی میں اسے قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا تھا، یہاں حکومتی جماعت کو ایسا کرنے نہیں دیا جائےگا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو حالات ہیں، ان میں واقعی نئے قانون کی ضرورت ہے، لیکن جس طرح کا قانون موجودہ حکومت لانا چاہتی ہے، وہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ اس قانون میں ترامیم کے لیے جو تجاویز انھوں نے دی ہیں ان کو بل میں شامل کیے بغیر اسے سینیٹ میں پیش کر دیاگیا ہے۔

اس موقعے پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عبدالرؤف لالا نےتجویز دی کہ قائمہ کمیٹی میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کو بھی شامل کیا جائے، جس پر صابر بلوچ نے کہا کہ تمام ارکان ترامیم کے لیے تجاویز دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں