سپریم کورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری سیکرٹری داخلہ کے علاوہ مختلف اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے ہیں

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی تعیناتی کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قمر زمان چوہدری کی بطور چیئرمین نیب کی تقرری میں وزیرِاعظم اور قائِد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت زبانی طور پر ہوئی ہے اور اس کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی ’مک مکا‘ ہوا ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا مشاورت کا کوئی تحریری ریکارڈ بھی ہوتا ہے اور کیا قانون میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب کے سابق چیئرمین فصیح بخاری کی تعیناتی پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور اس وقت کے قائدِ حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے درمیان تحریری مشاورت ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے احتساب جیسے بڑے ادارے پر سودے بازی کر لی ہے اس لیے اب ملک میں کسی بھی بڑے کا احتساب ہوتا ہوا نظر نہیں آئے گا۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم سے پہلے صدر اور حزب اختلاف کے درمیان مشاورت ہونا ضروری تھا لیکن اس ترمیم کے قانون کا حصہ بننے کے بعد اب مشاورت کی ضرورت نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس معاملے میں صدر وزیرِاعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کرنے کے پابند ہیں۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق حکومت کی جانب سے قائد حزب اختلاف کو تین نام بھجوائےگئے تھے اور فریقین کے درمیان بامقصد مشاورت کے بعد قمر زمان چوہدری کو نیب کا چیئرمین تعینات کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

یاد رہے کہ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری سیکرٹری داخلہ کے علاوہ مختلف اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے ہیں۔

اسی بارے میں