رینجرز اہلکاروں پر قتل اور تشدد کا مقدمہ دائر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کھینسر تھانے میں رینجرز کی جانب سے بھی مقدمہ دائر کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں رینجرز کے انسپکٹر سمیت پانچ اہلکاروں کے خلاف قتل، قاتلانہ حملے اور تشدد کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

سیشن جج مٹھی سید انعام الرحمان نے جمعرات کو یہ مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

’رینجرز تو خود ایک مسئلہ ہیں‘

مقتول ناصر تالپور کے بہنوئی نور احمد نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دوران شکار رینجرز نے فائرنگ کر کے ناصر تالپور کو قتل کر دیا جبکہ محمد علی تالپور زخمی ہوگئے، لیکن پولیس نے رینجرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

چھاچھرو تحصیل کے تھانے کھینسر پر جمعے کی صبح میر نور محمد تالپور کی فریاد پر انسپکٹر عباس، اظہر حسین، کرامت حسین، محمد رزاق اور محمد خلیل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ایس ایچ او محمد راہو نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی آر میں قتل، قاتلانہ حملے اور تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فریادی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا بیٹا عادل، رشتے دار سجاد، ناصر اور محمد علی حیدرآباد سے تھر کے گاؤں جئسے جوپار میں تعزیت کرنے اور شکار کی نیت سے گئے تھے اور ان کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amar Guriro
Image caption ہلاک ہونے والے تھر میں ہرن کا شکار کرنے گئے تھے

ایف آئی آر کے مطابق سارے نوجوان جیپ میں رات کو 12 بجے کے قریب جیسے جو پار گاؤں سے نکلے اور تقریبا دو بجے پبنیو گاؤں کے قریب رکے، جہاں اچانک پیچھے اور سامنےسے ان کی گاڑی پرگولیاں چلنے لگی۔

ان کے مطابق سجاد تالپور نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاکر نو فائر نو فائر کی آوازیں لگائیں، جس کے بعد رینجرز نے انھیں گھیر لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

فریادی کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں سے لائسنس یافتہ اسلحہ، شکار کیے گئے چار ہرن، موبائل ٹیلیفون سمیت ہر چیز چھین لی گئی۔‘

اس فائرنگ میں میر ناصر اور محمد علی زخمی ہوگئے تھے، جنھیں لڑکوں نے کسی ہپستال پہنچانے کی درخواست کی لیکن وہ وہاں ایک گھنٹے تک وہاں پڑے رہے، بعد میں رینجرز اہلکار زخمیوں اور سجاد تالپور کو اپنی چوکی پر لے گئے، جہاں ان کے ڈاکٹر نے فرسٹ ایڈ دی۔

ایف آئی آر کے مطابق سجاد کو دوبارہ جائے وقوعہ پر لایا گیا جہاں ایک بار پھر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ زخمی ناصر اور محمد علی کو چھاچھرو ہپستال اور بعد میں حیدرآباد منتقل کیا گیا، کچھ روز کے بعد ناصر کا کراچی کے ایک ہپستال میں انتقال ہوگیا۔

فریادی نور محمد تالپور کے مطابق وہ سمجھتے ہیں نوجوانوں پر بلاجواز فائرنگ کی گئی اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لہٰذا رینجرز اہلکاروں پر مقدمہ درج کیا جائے۔

ایس ایچ او کھینسر کے مطابق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یاد رہے کہ کھینسر تھانے پر ہی رینجرز کے انسپکٹر عباس کی فریاد میں مقدمہ دائر ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سات اپریل کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے نائیک کرامت حسین، لانس نائیک مظہر حسین، محمد خلیل اور محمد رزاق کے ساتھ ہیڈ کوارٹر سے روانہ ہوئے تو اس دوران پبن گوٹھ کی طرف جاتے ہوئے ایک بغیر نمبر پلیٹ جیپ میں سوار کچھ لوگ سرچ لائٹس کی مدد سے ہرن کا شکار کر رہے تھے، قریب آنے پر انھوں نے ہم پر قاتلانہ حملے کی نیت سے فائرنگ کی جس پر ہم نے بھی جوابی فائرنگ کی۔

رینجرز کا موقف ہے کہ فائر جیپ کے پچھلے حصہ میں لگے اور بعد میں گھیراؤ کر کے گاڑی اور اس میں سوار لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔

حراست میں لیے جانے والوں میں محمد علی تالپور اور میر ناصر علی تالپور زخمی تھے جن کو علاج کے لیے چھاچھرو ہپستال منتقل کیا گیا جبکہ میر سجاد انور، محمد حنیف راہموں اور محمد عادل کو گاڑی سمیت کھینسر تھانے کے حوالے کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ صحرائے تھر میں نایاب نسل کا ہرن پایا جاتا ہے، جس کے شکار پر سندھ کی حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات بڑے رقبے اور کم عملے کی وجہ سے اس غیر قانونی شکار کی نگرانی نہیں کرتا جبکہ رینجرز نے یہ ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔

اسی بارے میں