صحافیوں کا سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان

Image caption صحافیوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے صحافی حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد احتجاجًا چھ روز تک سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔

اتوار کو ملک بھر کی صحافتی برادری اور صحافتی تنظیموں نے صحافیوں نے مظاہرے کیے۔

صحافیوں کے احتجاجی مظاہروں کی تصاویر

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ہونے والے مظاہرے میں صحافی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مظاہرین نے آزادی صحافت کے حق میں نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر علی رضا علوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ صحافی اپنا علامتی احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’میڈیا آج سے آئندہ چھ دن تک کوئی بھی سرکاری تقریب جیسا کہ قومی اسمبلی یا سینیٹ ہو اُس کی کوریج نہیں کرے گا۔ تاکہ حکومت کو یہ باور کیا جائے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور ہمیں اداکار نہیں اصلی ملزم چاہئیں۔‘

مظاہرے میں شریک خاتون صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا کہ بعض ریاستی ادارے پسند نہیں کرتے ہیں کہ صحافی بلوچستان سمیت دیگر حساس مسائل پر آواز اٹھائیں۔

’اگر اُن ( حامد میر) کا خاندان آئی ایس آئی پر شک ظاہر کر رہا ہے تو کسی بھی ایجنسی کو اسے ذاتی طور پر پر نہیں لینا چاہیے بلکہ آگے بڑھ کر ملزمان کو پکڑنے میں مدد کرے۔‘

مبینہ طور پر ریاستی تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی عمر چیمہ کہتے ہیں کہ خفیہ ادارے پر الزام عائد کرنا انتہائی آسان نہیں کیونکہ الزام کے بعد اکثر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کوئٹہ میں صحافیوں کے پریس کلب کے باہر مظاہرے میں حکمران جماعت نیشنل پارٹی کے رہنما طاہر بزنجو اور کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرے سے خطاب میں سینیئر صحافی شہزادہ اورنگزیب نے کہا کہ بلوچستان میں صحافیوں کے ساتھ نارواسلوک برتا گیا ہے اور اُن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ جن اداروں کے خلاف الزامات ہیں انھیں چاہیے کہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرے کرتے ہوئے تحقیقات میں مدد کریں تاکہ دنیا بھر میں اُن کی ساکھ بحال ہو سکے۔‘

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں احتحاجی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے۔

لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹ اور پریس کلب کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے کے بعد ایک قرارداد میں حملہ آوروں کی فوری گرفتار کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کراچی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں صحافیوں کی تعداد انتہائی محدود رہی جبکہ جیو نیوز سمیت ٹی وی چینلز کے صحافیوں کی شرکت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔

مظاہرین سے کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران، سینیئر صحافی بابر ایاز، خورشید عباسی، حیدرآباد پریس کلب کے صدر اسحاق منگریو نے خطاب کیا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ حملے کی غیر جانبدرانہ تحقیقات کرائی جائے اور متاثر خاندان کو مطمئن کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو سکارٹ لینڈ یارڈ کی مدد حاصل کی جائے۔

اسی بارے میں