سکھر: ٹریفک حادثے میں کم از کم 40 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں ٹریفک حادثات عام ہیں اور ان کی عمومی وجوہات مخدوش سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی خراب حالت، ڈرائیوروں کی غفلت اور گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا بتائی جاتی ہیں

پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع سکھر کے قریب ایک مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم کے نتیجے میں کم سے کم 40 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پنوں عاقل کے سرکاری تعلقہ ہسپتال کے انچارج میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد بخش سیال نے بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 40 ہو گئی ہے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 12 بچے اور 13 خواتین بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر بخش سیال کا کہنا تھا کہ اکثر افراد کو سر اور سینے پر چوٹیں آئی تھیں جو ان کی فوری موت کا سبب بنیں۔

ہائی وے پولس کے ایس ایس پی کیپٹین فیصل نے صحافی علی حسن کو فون پر بتایا کہ 19 افراد کے ناموں کی شناخت ہو چکی ہے جب کہ شناخت کا عمل جاری ہے۔

ایس ایس پی نے 60 مسافروں سے بھری بس کے ڈرائیور کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ’بس ڈرائیور نے بائیں جانب سے ٹرالر کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی جس کے باعث بس ٹرالر میں گھس گئی۔

انھوں نے بتایا کہ بس ڈرائیور بھی حادثے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بائیں جانب سے اوور ٹیک کرنا غیر قانونی عمل ہوتا ہے لیکن ہائی وے پر اکثر چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کے ڈرائیور غلط ڈرائیونگ کرتے ہیں جس کے باعث حادثات ہوتے ہیں۔

جائے حادثے پر پہنچے والے ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ کا یہ حصہ گھوٹکی سے سکھر تک زیر تعمیر ہے جس کی وجہ سے تمام گاڑیوں کو کئی مقامات پر سنگل سڑک پر چلنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں