شاعرِ مشرق کی 76ویں برسی پر ان کا مزار بند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مزارِ اقبال اور مینار پاکستان پر بدستور عام شہریوں کا داخلہ بند ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر برصغیر کے مشہور شاعر علامہ اقبال کے مزار پر ان کی 76 ویں برسی کی تقریب منعقد نہیں ہو سکی۔

پیر کو شاعر مشرق کہلانے والے علامہ اقبال کا 76واں یومِ وفات ہے لیکن سکیورٹی خدشات کی بنا پر مزارِ اقبال پر شہریوں کا داخلہ بند ہے اور پولیس حکام نے فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے شہریوں کو مزار آنے سے روک دیا ہے۔

علامہ اقبال کا مزار لاہور کی مشہور بادشاہی مسجد کے باہر واقع ہے لیکن اس پر عام شہریوں کاداخلہ بند ہے۔ لاہور میں مینار پاکستان پر بھی عام شہریوں کے داخلے پر پابندی ہے۔

لاہور کے ایک رہائشی محمد سجاد کا کہنا ہے کہ انھیں اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے غیرملکی دوست کو مینار پاکستان دکھانے گئے اوراس میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر داخلہ بند تھا۔

مزارِ اقبال اور مینارِ پاکستان پر شہریوں کے داخلے پر پابندی کوئٹہ میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد لگائی گئی ہے۔

زیارت میں قائد اعظم ریزیڈنسی پر گذشتہ برس جون میں بم حملہ کیا گیا تھا اور وہاں تعینات پولیس اہلکار کو قتل کرنے کے علاوہ عمارت کو بموں سے اْڑایا گیا تھا۔

اس واقعے کی ذمہ داری علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

پاکستان کی خفیہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی اطلاعات کےمطابق زیارت میں قائد اعظم کی ریزیڈنسی کی مسماری کے بعد لاہور میں مینارِ پاکستان، مزارِ اقبال اور معروف مسلمان صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری کے مزار داتا دربار شدت پسند عناصر کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔

داتا دربار تو چند روز بند رکھنے اور سکیورٹی بڑھانے کے بعد زائرین کے لیے کھول دیا گیا ہے لیکن مزارِ اقبال اور مینار پاکستان پر بدستور عام شہریوں کا داخلہ بند ہے۔

اسی بارے میں