ای سی ایل سے نام خارج کرنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ میں اکبر بگٹی قتل کیس کی سماعت کے دوران سابق صدر پرویز مشرف ایک مرتبہ پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئے

سندھ ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے اپنے موکل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

یہ درخواست پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے پیر ہی کو سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

فوری سماعت کی یہ درخواست چیف جسٹس مقبول باقر نے جسٹس مظہر علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کو سماعت کے لیے منتقل کر دی تھی’۔

اس کے بعد جسٹس مظہر علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپنے چیمبر میں درخواست کی سماعت کی۔ اس موقعے پر وفاقی سیکریٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو نوٹس جاری کردیے گئے اور مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے وکیل نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو ایک خط تحریر کیا تھا، جس کے جواب میں سیکریٹری داخلہ نے بتایا ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف کئی مقدمات زیر سماعت ہیں، اس لیے ان کا نام خارج نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست کے مطابق یہ اقدام انتقامی رویے کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ مقدمات تو کئی لوگوں پر ہیں، لیکن ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی نہیں ہے۔

درخواست گزار کے مطابق جنرل مشرف نے مختلف عدالتوں سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے، اور کسی بھی ٹرائل کورٹ نے ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد نہیں کی، جبکہ خصوصی عدالت نے بھی ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور وہ جب چاہے انھیں طلب کر سکتی ہے۔

انھوں نے اس پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور گزارش کی ہے کہ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے۔

پانچ اپریل سنہ 2013 کو ملک کی وزارتِ داخلہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر اس لیے ڈالا تھا کہ وہ اپنے اوپر دائر مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کریں۔

پرویز مشرف پر 31 مارچ کو تین نومبر سنہ 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کا فردِ جرم عائد کیا گیا تھا۔ انھیں غداری کے مقدمے کے علاوہ بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کے قتل کیسوں میں بھی مقدمات کا سامنا ہے۔

ادھر کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پیر ہی کو سابق صدر پرویز مشرف اور دیگر ملزمان کے خلاف نواب بگٹی کے مقدمہ قتل کی سماعت 19مئی تک ملتوی کردی ہے۔

سماعت کے دوران سابق صدر پرویز مشرف ایک مرتبہ پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق عدالت کے استفسار پر پرویز مشرف کے وکیل ذیشان ریاض ایڈدوکیٹ نے عدالت کو آگا ہ کیا کہ ان کے موکل بیمار ہیں اور کراچی کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں۔

انہوں نے آج کی پیشی سے پرویز مشرف کو استثنیٰ دینے کی استدعا کی۔اگر چہ پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم ان کے دو ضامن حاضر ہوئے۔

پرویز مشرف کے ضامنوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں پرویز مشرف کو پیش کرنے کے لیے ایک اور موقع فراہم کیا جائے۔

پریز مشرف کے ضامنوں نے اپنے وارنٹ گرفتاری کو واپس لینے کے لیے بھی ایک درخواست دائر کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے انہیں انتباہ کیا کہ وہ آئندہ سماعت پر پرویز مشرف کو عدالت پیش کریں۔

سماعت کے دوران نواب بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت ایڈووکیٹ نے کہا کہ پرویز مشرف جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہورہے ہیں۔انہوں نے عدالت سے استد عا کی کہ پرویز مشرف کی ضمانت کو منسوخ کیا جائے اور ان کو گرفتار کراکے ان کی عدالت میں حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت19مئی تک ملتوی کرتے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل اور ضامنوں کو سختی سے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر پرویز مشرف کی پیشی کو یقینی بنائیں۔

سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت بھی 24 اپریل کو اسلام آباد میں ہوگی جہاں پر اس مقدمے میں گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف سنیچر کو ایک دوست کے نجی طیارے کے ذریعے کراچی گئے تھے جہاں وہ اب قیام پذیر ہیں۔

سابق فوجی صدر گذشتہ برس پاکستان آنے کے بعد پہلی مرتبہ کراچی گئے ہیں جبکہ انھوں نے اس دوران زیادہ عرصہ اسلام آباد میں ہی قیام کیا ہے۔

اسی بارے میں