بی ایس او کے چیئرمین زاہد بلوچ جبری لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اپنے مرکزی رہنماؤں کی بازیابی کے لیے تا دم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا

بلوچستان میں سرگرم تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ کو مبینہ طور پر حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کی سینئر وائس چیئرمین کریمہ بلوچ نے صحافیوں بتایا کہ 18 مارچ کو زاہد بلوچ عرف بلوچ خان کوئٹہ میں بلوچ طلباء کی سیاسی و فکری تربیت میں مصروفِ عمل تھے لیکن ان کے اس جمہوری اور پر امن جدوجہد سے خائف پاکستانی اداروں نے جبری طور پر اغواء کرکے لاپتہ کردیا ہے۔

کریمہ بلوچ کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے کے ان سمیت تین چشم دید گواہ ہیں، وہ گواہی دینے کے لیے عالمی عدالتِ انصاف سمیت دنیا کی کسی بھی عدالت کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں، اس کے علاوہ جائے وقوع پر عام افراد کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

اس بات کو تاخیر سے ظاہر کرنے کے جواب میں کریمہ بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ ایک طویل عرصے تک انتظار کرتے رہے کہ ان کے چیئرمین کو منظر عام پر لایا جائے گا لیکن ان کا انتظار صرف انتظار ہی رہا۔

بی ایس او آزاد ایک پرامن سیاسی و جمہوری طلبا تنظیم ہے۔

انہوں نے کہا ’بلوچستان میں روز بلوچوں کے لاپتہ ہونے اور بعد ازاں ان کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے بعد ہمیں زاہد بلوچ کی زندگی کے حوالے سے سنگین خدشات لاحق ہیں۔‘

انہوں نے جمہوری تنظیموں، انسانی حقوق کے عالمی اداروں، سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ زاہد بلوچ سمیت بی ایس او ( آزاد) کے تمام لاپتہ کارکنوں کی بحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں اور پر امن احتجاج میں بھر پور ساتھ دیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اپنے مرکزی رہنماؤں کی بازیابی کے لیے تا دم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا، کریمہ بلوچ کے مطابق ’جب تک ہمارے مرکزی چیئرمین کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا تب تک یہ بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔‘

دوسری جانب کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ قائم کردیا گیا ہے، جس میں خواتین اور بچوں سمیت پندرہ افراد موجود ہیں، جن کا کہنا ہے کہ وہ رات اسی کیمپ میں گذاریں گے۔

اسی بارے میں