’قانون کی بالا دستی کے لیے تعلیم کا حصول ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سیمینار میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، بنیاد پرستی، انتہاپسندی اور دہشت گردی جیسے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا گیا

پاکستان میں قانون کی بالادستی اور انسدادِ دہشت گردی میں عوامی اور نجی سیکٹر کے کردار کے عنوان سے اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔

سیمینار میں جامع قانونی اصلاحات کے ذریعےملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے، بنیاد پرستی، انتہاپسندی اور دہشت گردی جیسے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

یہ سیمینار سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے زیرِاہتمام منقعد ہوا۔

شدت پسندی پر قابو پانے اور قانون کی بالادستی کی مثال دیتے ہوئے برطانیہ میں سٹاک ویل گرین کمیونٹی سروسز کے چیئرمین طٰحہ قریشی نے کہا کہ قانون کی بالادستی پولیس، عدلیہ اور کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ برطانیہ میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نائن الیون کے واقعے سے کہیں پہلے کوششیں شروع کردی گئی تھیں۔

’آج پاکستان کو رجعت پسندی اور شدت پسندی جیسے چیلنجوں کاسامنا ہے اور ان مسائل کو صرف ایک درست اور مربوط حکمت عمل کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔ پاکستان بھی برطانیہ کےاس نظام کو اپنایا جاسکتا ہے اور اس میں کامیابی کے لیےصرف مسلم کمیونٹی ہی نہیں بلکہ اقلیتوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں پچھلے 15 سالوں میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک منظم شراکتی نظام قائم کیا گیا۔ اِس نظام میں برطانوی وزارتِ داخلہ، وزارتِ انصاف، جیل سے متلعق خدمات اور پولیس کے علاوہ کمیونٹیز نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

طٰحہ قریشی کے مطابق شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پہلا مرحلہ مسائل کی نشاندہی ہے جس کے بعد ایک جامع پالیسی مرتب کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے کہ انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تعلیم اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

پاکستان کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے طٰحہ قریشی نے کہا کہ قانون کی بالادستی اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک اسے کسی بھی ذات اور تعصب کے بغیر برابری کی بنیاد پر لاگو نہیں کیا جاتا۔

ماہرِ قانون احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کا برابر احترام کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ریاست کی ذمےداری ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو قومی اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں آگاہ کرے۔

احمر بلال صوفی نے کہا کہ دہشت گردی سنگین جرم ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد تک پہنچا جائے جس کی وجہ سے شدت پسندی پروان چڑھتی ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق ممبر قومی اسمبلی حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ جس ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہو وہاں شدت پسندی قدم نہیں رکھ سکتی۔

ان کا موقف تھا کہ بلوچستان میں بدامنی کی وجہ مذہب یا مدرسہ نہیں ہیں بلکہ آئین کی عمل داری کا نہ ہونا ہے۔

سابق ڈی جی انٹیلی جنس بیورو اور کریمنل جسٹس سمیت پولیس اصلاحات کے ماہر ڈاکٹر شعیب سڈل نے موجودہ قوانین میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی بالادستی نہ ہونے کی ایک وجہ کسی مرکزی قانون کی غیر موجودگی بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم صورت حال کو اُس وقت تک نہیں سنبھال سکتے جب تک تمام صوبوں میں ایک جیسا قانون رائج نہ ہو۔