جیو ٹی وی چینل کو بند کریں، وزارت دفاع کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حامد میر پر حملے کو جواز بنا کر بغیر ثبوت کے پاکستان کے قومی اداروں پر حملے کیے جانا اور انھیں مورد الزام ٹھہرانا تشویش ناک ہے: وزارتِ داخلہ

پاکستان کی وزارت دفاع کی طرف سے ملک میں ذرائع ابلاغ کے نگران ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو جیو نیوز کے خلاف درخواست میں خبروں اور حالات حاضرہ کے اس نجی ٹی چینل کی نشریات کو فوری طور پر معطل کرنے اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی ہے۔

سیکریٹری دفاع آصف یاسین ملک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جیو نیو کے خلاف پیمرا کو درخواست بھجوانے کی تصدیق کی۔

وزارت دفاع کی ترجمان ناریتہ فرحان نے بی بی سی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے پیمرا آرڈیننس 2002 سیکشن 32 اور 36 کے تحت پیمرا حکام کو درخواست دی گئی ہے کہ جیو کی ادارتی ٹیم اور انتظامیہ کے خلاف مقدمے کا آغاز کیا جائے۔

وزارت دفاع کا موقف ہے کہ ریاست کے ایک ادارے کے خلاف توہین آمیز مواد چلایا گیا ہے جو کہ نہیں چلایا جانا چاہیے تھا۔

انھوں نے بتایا کہ وزارت دفاع نے پیمرا حکام کو بھجوائی گئی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ جیو کے خلاف ثبوت اور حقائق کو دیکھنے کے بعد فوری طور پر جیو نیوز کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔

قبل ازیں پاکستان میں وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جیو ٹی وی کے سینیئر اینکر پرسن حامد میر پر حملے کو جواز بنا کر بغیر ثبوت کے پاکستان کے قومی اداروں پر حملے کیے جانا اور انھیں مورد الزام ٹھہرانا تشویش ناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے پر پاکستان کی پوری صحافتی برادری سراپا احتجاج ہے

پاکستان کی وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے حامد میر پر حملے کے تناظر میں جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جس طرح سے اہم دفاعی اداروں کو تنقید اور الزامات کا نشانہ بنایا گیا اس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی۔‘

وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ اداروں کے بارے میں مخصوص حلقوں کی جانب سے ہونے والے اس پراپیگنڈے کی تشہیر ملک کے دشمنوں نے پوری دنیا میں کی۔

تحریری بیان میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ جب حکومت نے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل کمیشن قائم کر دیا ہے تو اس قسم کی الزام تراشی کیا معنی رکھتی ہے؟

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سینئیر صحافی حامد میر پر حملے کا واقعہ صرف ان کے خاندان اور ادارے کے لیے نہیں بلکہ پوری پاکستانی صحافتی برادری اور قوم کے لیے بھی انتہائی المناک ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے دفاعی اداروں کے افسر اور جوان پاکستان کے تحفظ کی خاطر ہر روز اپنی جانوں اور خون کی قربانی دے رہے ہیں۔

’یہ یک طرفہ اور منفی پروپیگنڈا قابل تشویش ہی نہیں قابلِ مذمت بھی ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے سینئیر صحافی حامد میر پر حملے کے بعدگذشتہ روز کراچی میں ان کی عیادت کی۔

آئی ایس آئی کا نام لیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد فوج کے محمکہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے اس بارے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی، لیکن حامد میر پر حملے کے بعد پاکستانی میڈیا کے منقسم ہو جانے کے بعد چند ٹی وی چینلوں پر آئی ایس پی آر کے ترجمان، جنرل آصف باجوہ کے آڈیو بیانات بھی نشر ہوئے۔

سنیچر کو صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد ان کے بھائی عامر میر نے کہا تھا کہ ’حامد میر نے بتایا تھا کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو اس کے ذمہ دار پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ ہوں گے۔‘

اتوار کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو کے صدر عمران اسلم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تھا اس بات کا فیصلہ حامد میر خود کریں گے کہ آیا آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کا نام ایف آئی آر میں لکھا جائے گا یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’نہ صرف حامد میر کے بھائی عامر میر نے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام پر حملے کا الزام لگایا ہے بلکہ حامد میر خود کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ خفیہ ایجینسیاں ان کے موقف کی وجہ سے شاید ان سے بدلہ لیں۔‘

اسی بارے میں