طالبان مذاکرات:’حکومت پالیسی کے نتائج خطرناک ہونگے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مذاکرات میں تعطل کے خاتمے میں بڑی روکاوٹ حکومت کی جانب سے غیرعسکری طالبان قیدیوں کی رہائی بتائی جا رہی ہے

پاکستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہیں لیکن حکومت پر امید ہے کہ بات چیت جلد درست سمت میں آگے بڑھے گی۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے گذشتہ ہفتے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن خیبر پختونخوا میں آج کے پرتشدد واقعات کے علاوہ کوئی بڑا حملہ اب تک نہیں ہوا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے 47 روزہ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے ابتدائی مطالبات کو مانے کو تیار نہ ہونے کے ساتھ ساتھ بااختیار اور سنجیدہ بھی نہیں۔

پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے رہنما اور حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم خان نے مذاکرات میں تعطل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بڑی وجہ غیرعسکری قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے طالبان کمیٹی سے اب تک ملاقات بھی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے بات چیت رکی ہوئی ہے۔ یہ ملاقات گذشتہ سنیچر ہونا متوقع تھی لیکن کوئی وجہ بتائے بغیر مؤخر کر دی گئی تھی۔

پروفیسر ابراہیم خان کا الزام تھا کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اخباری کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ قیدی جلد رہا کر دیے جائیں گے لیکن اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب مذاکرات میں مسائل کا اعتراف وزیر اعظم نواز شریف نے بھی میڈیا سے کراچی میں بات کرتے ہوئے کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوششیں ابھی بھی جاری ہیں اور اس بابت اونچ نیچ ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی معاملات دیگرگوں بھی ہو جاتے ہیں لیکن اپنی طرف سے ہم انتہائی خلوص کے ساتھ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں سب کی بہتری ہے۔

حکومتی ترجمان اور وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے صحافیوں سے گفتگو میں اس تعطل کو معمول کی بات ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مذاکرات کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں اور انشا اللہ معاملات درست سمت میں آگے بڑھیں گے۔‘

تعطل کے خاتمے میں بڑی روکاوٹ حکومت کی جانب سے غیرعسکری طالبان قیدیوں کی رہائی بتائی جا رہی ہے۔

تاہم پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر اعجاز خان قیدیوں کے مسئلے میں عسکری اور غیر عسکری تشبیہ کے خلاف ہیں۔

’کسی نے بم رکھا ہے یا حوالے کیا یا کسی کو گھر میں رکھا تھا اس میں عسکری غیرعسکری نہیں ہوتا ہے۔ جس طرح حکومت اس پر طالبان سے بات کر رہی ہے وہ تو انہیں قبائلی عوام کا نمائندہ بنا رہی ہے۔ اگر وہ طالبان نہیں بھی ہیں تو وہ کہیں گے کہ پکڑا تو ہمیں حکومت نے تھا لیکن چھڑوایا طالبان نے ہے۔ تو اس پالیسی کے آگے چل کر انتہائی خطرناک نتائج ہوں گے۔‘

بعض عناصر کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے فوج خلاف ہے اس لیے بات چیت رک گئی ہے۔

پروفیسر اعجاز خان تاہم کہتے ہیں کہ ایسے معاملات میں فوج کا بات وزن رکھتی ہے لیکن مسئلہ سیاسی قیادت کا مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت نہ ہونا ہے۔

’غلط کریں یا درست کریں فیصلے کرنا قیادت کا کام ہوتا ہے۔ وہ فیصلے نہ کر کے چیزوں کو ابہام کی جانب افرا تفری کی جانب دھکیل رہی ہے جو زیادہ خطرناک بات ہے۔‘

اگرچہ بات چیت نہیں ہو رہی لیکن قوی خیال یہی ہے کہ فریقین میں پس منظر میں رابطے جاری ہیں۔ قیدیوں کی رہائی پہلی رکاوٹ ہیں، ان مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے۔

اسی بارے میں