’آزادی اظہار کو خطرہ مگر جیو نے انتہا کر رکھی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جس جددجہد کے ساتھ آزاد میڈیا مانگا تھا اس کے لیے ہماری جدوجہد مکمل نہیں ہوئی: عاصمہ جہانگیر

انسانی حقوق کی علمبردار اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ وزارت دفاع کی جانب سے جیو نیوز کی نشریات کو بند کرنے سے متعلق درخواست ملک میں آزادی اظہار کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’مجھے اس بات پر بہت تشویش ہے کہ ہم نے میڈیا کو آزاد کرانے کے لیے جو جد وجہد کی وہ اب بالکل ہی پیچھے چلی گئی ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’جیو گروپ نے بھی حدیں پار کی ہوئی تھیں۔ اس گروپ نے ’بے شرمی‘ سے لوگوں کی تذلیل کرنا اور انھیں تکلیف دینا شروع کیا ہوا تھا۔‘

معروف وکیل نے کہا کہ لوگوں کو میڈیا سے یہ شکایت تھی کہ بِلاوجہ ان کا میڈیا ٹرائل ہو رہا تھا اور متعدد افراد مسئلے کی وجہ بیمار ہو چکے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا ’میں بہت شدت سے اس بات کی مذمت کرتی ہوں کہ کسی بھی چینل کو بند کر دیا جائےتو یہ انتہائی اقدام ہے کیونکہ اس سے آزادیِ صحافت کو بہت ٹھیس پہنچے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ جیو گروپ نے ’حب الوطنی اور ملکی مفاد‘ کے بارے جو بحث چھیڑ رکھی تھی اور اس کے پروگراموں کے کچھ شرکا نے ’حب الوطنی کی فیکٹری کھول رکھی تھی، پھر ردِ عمل تو ہونا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جیو گروپ کو ایک حد تک لائن ڈرا کرنی چاہیے تھی کیونکہ پاکستان میں کوئی بھی شخص کسی کو بھی حب الوطنی کا سرٹیفیکٹ نہیں دے سکتا۔ ‘

انھوں نے کہا کہ جس سطح پر جیو کے خلاف پروپیگینڈہ ہوا ہے وہ بھی قابلِ براشت نہیں ہے۔

اسی بارے میں