بلوچستان: آواران میں بارش سے تباہی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان کے ضلع آواران اور اس سے ملحقہ ضلع کیچ کے بعض علاقوں میں گذشتہ سال ستمبر میں آنے والے زلزلے کے باعث 380 سے زائد افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور مجموعی طور پر پونے دو لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں ہونے والی حالیہ طوفانی بارش سے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور بڑی تعداد میں مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔

آواران کے مقامی صحافی شبیر رخشانی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ بارشیں دو روز قبل زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ابھی تک متاثرین کے لیے مناسب پناہ گاہوں کا انتظام نہیں کیا گیا جس کے باعث بارش سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ متاثرین کو حکومت اور این جی اوز کی جانب سے جو خیمے فراہم کیے گئے تھے وہ ناکارہ ہوگئے ہیں۔

شبیر رخشانی نے بتایا کہ حالیہ بارشوں نے زلزلے کے متاثرین کی فصلیں تباہ کر دیں ہیں اور ان سے بڑی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین نے اپنی مدد آپ کے تحت رہائش کے لیے جو جھونپڑیاں بنائی تھیں وہ ان بارشوں بھی منہدم ہوگئی ہیں۔

واضع رہے کہ بلوچستان کے ضلع آواران اور اس سے ملحقہ ضلع کیچ کے بعض علاقوں میں گذشتہ سال ستمبر میں آنے والے زلزلے کے باعث 380 سے زائد افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی اور مجموعی طور پر پونے دو لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

زلزلے سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر پناہ گاہوں کی فراہمی کے لیے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 35 ہزار کے لگ بھگ خیمے فراہم کیے گئے لیکن چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی متاثرین کے لیے مکانات تعمیر نہیں کیے جا سکے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترجمان جان محمد بلیدی کے مطابق متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کا منصوبہ تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرین کے گھروں کی تعمیر کا سلسلہ جلد شروع ہوجائے گا جس کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اپنے اپنے حصے کی رقم مختص کردی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے سربراہ ہاشم خان غلزئی نے بتایا کہ متائثرہ علاقوں میں 16 ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے جن کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے ۔

ہاشم غلزئی کا کہنا ہے کہ متاثرین خود اپنی گھروں کی تعمیر کریں گے اوراس سلسلے میں انہیں رقوم فراہم کی جائیں گی۔

اسی بارے میں