میڈیا ہاؤس بڑا یا صحافی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پ پاکستان میں آزادی صحافت کسی کی بھیک نہیں پیشہ ور صحافیوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے

آزادی چاہے کسی ملک کی ہو، ادارے کی ہو یا کسی شخص کی، قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔

اجتماعی آزادیوں کے لیے اجتماعی قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔

اسی طرح آزادی کا تحفٌظ کرنے کے لیے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بھی قربانیوں کے علاوہ بہت ذمہ دارانہ رویے اپنانا پڑتے ہیں۔

لہذا قربانی اور ذمہ داری دونوں ہی آزادی حاصل کرنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے لازم ہیں۔

آزادی کی قدر و قیمت وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو آزادی کے حصول کے لیے قربانیاں دیتے ہیں اور وہی لوگ اس کا تحفظ بھی کرنا جانتے ہیں۔

اجتماعی آزادیوں کے ثمرات تمام لوگوں تک پہنچتے ہیں اور وہ لوگ بھی ان ثمرات سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں جنھوں نے اس کے لیے ذاتی اور ’نجی‘ طور پر کوئی قربانی نہیں دی ہوتی۔

آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کے تو اکثر بے نام مزار بن جاتے ہیں اور ان گمنام سپاہیوں کی قبروں پر کبھی کبھار پھول بھی چڑہا دیے جاتے ہیں۔

اگر آزادی کی حامل قومیں یا ادارے ذمہ دارانہ رویے اپنانے اور اختیار کرنے میں ناکام ہو جائیں تو آزادیاں سلب ہو جاتی ہیں اور اس کے نقصانات بھی اجتماعی طور پر بھگتنا پڑتے ہیں۔

پاکستان میں آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے لیے کی جانے والی جد وجہد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں تیس سال سے زیادہ ملک اور ریاست کے ادارے فوج کے زیرِ تسلط رہے ہیں وہاں آزادی اظہار کا حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔

مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان میں جہاں قوم کی امیدیں مایوسیوں میں تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہیں وہاں پریس کی آزادی ان چند چیزوں میں شامل ہے جن کی وجہ سے اب بھی ملک کے بالآخر بحرانوں سے نکل آنے کی آس باقی ہے۔

پاکستان میں روائتی ذرائع ابلاغ یعنی اخبارات اور جرائد میں کام کرنے والے پیشہ ور صحافی ہی اصل میں پاکستانی معاشرے کا وہ حصہ ہیں جنہوں نے تمام معاشرے کے اجتماعی مفاد کی خاطر پریس کی آزادی کے لیے نا صرف فقید المثال قربانیاں دیں بلکہ ایسے رویے بھی اپنائے جن سے ملک میں پیشہ وارانہ معیار بھی قائم ہوئے۔

Image caption پاکستانی اخبارات بین الاقوامی پشیہ وارانہ معیار کے ہیں

ان کی قربانیوں کی وجہ سے ملک بار بار کی فوجی بغاوتوں کے باوجود جمہوریت کی طرف لوٹنے میں کامیاب رہا بلکہ ذرائع ابلاغ کی صنعت میں بھی بے پناہ وسعت ہوئی۔

پاکستانی اخبارات میں کام کرنے والے پیشہ ور صحافی، اخباری مالکان کے ہاتھوں ہر دور میں معاشی استحصال کا شکار ہوتے رہے لیکن پھر بھی کسی دور میں انھوں نے آزادی اظہار کے لیے جہدوجد کرنے میں مصلحت سے کام نہیں لیا اور بڑی سے بڑی قربانی سے نہیں ہچکچائے۔

پیشہ ور صحافیوں نے جب اخباری مالکان سے اپنے جائز معاشی حقوق حاصل کرنے کی کوشش کی تو انھیں اپنے ہی اخباروں میں جن کے صحفات وہ ہر روز کالے کرتے کرتے اپنے بال سفید کرلیتے ہیں وہاں تین سطریں بھی چھپوانا بھی ان کے لیے دشوار ثابت ہوا۔

پاکستان میں پریس کی آزادی کے فائدے جس بھر پور انداز میں اخباری مالکان نے اٹھائے ہیں اس کا جیتا جاگتا ثبوت ملک کے بڑے بڑے نشرو اشاعت کے ادارے اور ’میڈیا ایمپائرز‘ ہیں۔

آزادی اظہار کی جدوجہد میں جیلیں، کوڑے کھانے والے صحافی معاشی طور پر قتل ہوتے رہے اور اخباری مالکان کی جائیدادوں اور اثاثوں میں دن دگنا اور رات چوگنا اضافہ ہوتا رہا۔

پیشہ ور صحافی تنخواہوں کے حصول کے لیے پستے رہے لیکن ملک میں آئے روز نئے نئے چینل اور اخبارات نکلتے رہے۔

سنہ انیس سو نوے کی دہائی میں جب ملک کا سب سے بڑا اخباری ادارہ جنگ گروپ نواز شریف ہی کی حکومت کے عتاب کا شکار ہوا تھا تو اس جدوجہد میں ایک ایسا موقع بھی آیا جب جنگ پنڈی کے پرنٹنگ پریس کو جانے والے راستے سیف الرحمان نے مسدود کر دیے اور جنگ پنڈی کی اشاعت محال ہو گئی۔ ایسے میں ایک رات کارکنوں نے نیوز پرنٹ کی دو ریلوں سے لدی ایک سوزکی وین کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر چالیس سیڑہیاں عبور کر کے جنگ پریس تک پہنچا دیا۔ مالکان جب بحران سے نکلے تو ان کو یاد بھی نہیں رہا کہ ادارے کو بچانے کے لیے کارکنوں نے کیا کردار ادا کیا تھا۔

لیکن مالکان جو کبھی آزادی اظہار کے لیے ایئر کنڈیشن کمروں سے بھی باہر نہیں نکلے ان کے غیر ذمہ دارانہ رویوں سے آج پھر آزادی اظہار کے بارے میں لوگ خدشات کا شکار ہیں۔

آزادی اظہار کسی ایک ادارے کی محتاج نہیں اور نہ ہی کسی ایک ادارے کے بند ہو جانے سے پریس کی آزادی ختم ہو سکتی ہے۔ برطانیہ جیسے ملک میں ایک اخبار جو ڈیڑھ سو سال تک شائع ہوتا رہا اور جو ملک کا مقبول ترین اخبار تھا اپنے غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ رویے کی وجہ سے بند ہو گیا لیکن آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کو خطرہ لاحق نہ ہوا۔

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے اخبار بند ہوتے رہے اور نئے وجود میں آتے رہے، اس سے شاید یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جو آزادی کی قدر نہیں جانتے وہ آزادی کے حقدار بھی نہیں ہوتے۔ لیکن شاید یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان میں جب تک پیشہ ور اور ذمہ دار صحافی موجود ہیں آزادی رائے پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی۔

اسی بارے میں