کراچی:گذری میں مسجد کے باہر دھماکہ، چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ کراچی میں دو دن میں ہونے والا دوسرا دھماکہ ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے علاقے گذری میں ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ جمعے کو دوپہر دو بجے کے قریب شہر کے متمول علاقے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے قریب گزری کے علاقے میں واقع موتی مسجد کے باہر ہوا۔

جس وقت دھماکہ ہوا تب لوگ نماز کی ادائیگی کے بعد باہر نکل رہے تھے۔

جائے وقوع پر دھماکے کی جگہ پر ایک گڑھا پڑ گیا اور دھماکے سے ایک سرکاری ڈبل کیبن سمیت دس گاڑیاں متاثر ہوئیں، جن میں دو رکشے بھی شامل ہیں۔

فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے جائے حادثہ سے زخمیوں کو جناح ہپستال پہنچایا ۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے ہپستال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں ایک عورت سمیت چار افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق کہ زخمیوں میں راہ گیر اور نمازی بھی شامل ہیں۔

ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ بم ایک رکشہ میں نصب تھا جو سڑک پر کھڑا کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ سٹیٹ لائف انشورنش کارپوریشن کی بس بظاہر دہشت گردوں کا ہدف تھی جو ڈیفینس میں واقع امام بارگاہ جا رہی تھی۔

عمر خطاب کے مطابق بس کے قریب آتے ہی ریموٹ کنٹرول کی مدد سے دھماکہ کیا گیا، لیکن ٹائمنگ میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے بس آگے نکل گئی اور اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

بم ڈسپوزل سکواڈ نے جائے وقوع کے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ دھماکے میں پانچ کلوگرام بارود استعمال کیا گیا ہے جس میں بال بیئرنگ بھی شامل ہیں جن کے نشانات آس پاس کی عمارتوں پر بھی موجود ہیں۔

دھماکے سے متاثر ہونے والی گاڑی صوبائی سیکریٹری ثاقب سومرو کے زیر استعمال تھی، جن کا کہنا ہے کہ ڈرائیورگاڑی میں پیٹرول ڈلوانےگیا تھا کہ دھماکے میں زخمی ہوگیا۔

تاحال کسی تنظیم کی جانب سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے مطابق دہشت گرد پہلے دھماکے کر کے ذمہ داری قبول کرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’جنگ بندی کے بعد صوبہ سندھ کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے، گزشتہ دو روز میں یہ دوسرا دھماکہ ہے، حکومت مذاکرات کا ڈرامہ چھوڑ دے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ روز بھی کراچی میں پرانی سبزی منڈی کے قریب ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں سابق ایس ایچ او شفیق تنولی سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں