’آئی ایس آئی کے اندر آئی ایس آئی کو ذمہ دار سمجھتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دھمکیاں دینے والے وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ سے پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا حصہ رہے ہیں:حامد میر

قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد کراچی میں زیرِ علاج پاکستان کے سینیئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ انھیں دوبارہ حملے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔

ہسپتال سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ’آئی ایس آئی میں موجود آئی ایس آئی‘ کو حملے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

یہ قاتلانہ حملے کے بعد حامد میر کا کسی بھی چینل سے براہِ راست پہلا انٹرویو ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت بیماری سے لڑائی میں مصروف ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ انھیں مختلف ذرائع سے تنبیہی پیغامات ملے ہیں۔

حامد میر نے کہا کہ انھیں کہا جا رہا ہے کہ ’آپ کراچی سے چلے جائیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان سے چلے جائیں تو لگتا ہے لڑائی ابھی لمبی ہے۔‘

اس سوال پر کہ انھیں یہ پیغامات کہاں سے ملے ہیں سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ ’لوگ دوست بن کر آتے ہیں اور دشمنوں کے پیغام دیتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ آپ کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ آپ پاکستان سے چلے جائیں۔ آپ پر دوبارہ حملہ ہو گا۔ کل ہی مجھ سے ملنے ایک بہت ہی ذمہ دار شخص آیا اور اس نے کہا آپ پر دوبارہ حملہ ہوگا۔‘

حامد میر کا کہنا تھا کہ انھیں دھمکیاں دینے والے وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ سے ہی پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا حصہ رہے ہیں اور پیغامات کی نوعیت مختلف ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان پر حملہ کرنے کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جو پاکستان میں صحافیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں اور ان کی ٹیلی فون کالز چیک کرتے ہیں: ’صرف ان لوگوں کو پتہ ہو سکتا ہے کہ کون سی فلائٹ سے کتنے بجے حامد میر کراچی پہنچے گا۔ کون سی گاڑی انھیں لینے جائے گی کب وہ باہر آئیں گے تو ان پر حملہ کرنا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی ممکن بنایا کہ حملہ ایسی جگہ پر کیا جائے جہاں سی سی ٹی وی کام نہیں کرتا۔‘

حامد میر نے کہا کہ ان کا ’اشارہ آئی آیس آئی میں موجود آئی ایس آئی پر ہے۔ میں نے اپنے لائیو پروگرام میں میجر وجاہت نامی ایک آدمی جس نے کال کی اس کا نام موبائل نمبر ہر چیز دی۔ سب کو پتہ ہے۔ پھر سب سے تشویش ناک بات یہ ہے پاکستان میں جو طالبان جہادی تنظیمیں ہیں جن پر حکوت نے پابندی عائد کر رکھی ہے وہ تنظیمیں اس وقت آئی ایس آئی کے حق میں مظاہرے کر رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کالعدم جہادی تنظیمیں جو حامد میر کے خلاف اور آئی ایس آئی کے حق میں مظاہرے کر رہی ہیں تو ان کا تعلق کس کے ساتھ ہے؟ یہ آئی ایس آئی کے اندر آئی ایس آئی ہیں یا نہیں۔‘

اس سوال پر کہ اگر وہ انھیں ذمہ دار سمجھتے ہیں تو اس حملے کی ایف آئی آر میں آپ نے ان کا نام لیا، حامد میر نے کہا کہ انھوں نے جو ایک بیان جاری وہی میڈیا کو اور پولیس کو بھی دیا : ’پولیس کے جو صاحب میرے پاس آئے تھے انہوں نے ہمارے ساتھ ڈرامے بازی کرنے کی کوشش کی۔۔۔ میں نے ان سے وہی سوال کیا جو آپ نے مجھ سے کیا۔ میں نے کہا آپ ثبوت کیوں نہیں لینا چاہتے۔ میرے پاس پورا بیک گراونڈ ہے۔ انہوں نہ کہا نہیں ہم صرف اس معنی تک محدود رہیں گے۔‘

اس سے قبل حامد میر نے ہوش میں آنے کے بعد اپنے پہلے بیان میں بھی کہا تھا کہ موجودہ حالات میں انھیں سب سے زیادہ خطرہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے تھا جو لاپتہ افراد کے لواحقین کے لانگ مارچ پر ان کے پروگرام سے ان سے ناراض تھی۔

گذشتہ ہفتے حامد میر کی گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی گئی تھی جب وہ کراچی کے ہوائی اڈے سے شہر کی جانب آ رہے تھے۔ اس حملے میں حامد میر کو کئی گولیاں لگی تھیں اور وہ اس وقت ایک نجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

اسی بارے میں