حامد میر پر حملہ، کمیشن کی سماعت بند کمرے میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حامد میر لکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے جیو ٹی وی کو سنہ 2002 میں غدار کہا آج وہ پھر جیو ٹی وی کو غدار کہہ رہے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی کمیشن نے سینیئر صحافی حامد میر پر حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے لیکن اس سلسلے میں آئی ایس آئی کو تاحال نوٹس جاری نہیں کیاگیا۔

کمیشن کی کارروائی بند کمرے میں ہوئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیا بتایا اور کمیشن نے کیا کہا، یہ سب کچھ صیغۂ راز ہی میں ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کی درخواست پر سپریم کورٹ کے جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس اعجاز خان اور جسٹس اقبال حمید الرحمان پر مشتمل کمیشن قائم کیا گیا ہے، جس نے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس اور جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو کو نوٹس جاری کیے تھے جبکہ عام شہریوں کے لیے اخبارات میں تشہیر کی گئی۔

کراچی میں کمیشن نے آج یعنی پیر کو ایک چیمبر میں ہی پہلی سماعت کی، جس میں ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور صوبائی سیکریٹری داخلہ نے رپورٹیں پیش کی اور بیانات قلم بند کرائے۔

صحافی پر حملے کی تحقیقات کرنے والے اس کمیشن کی کارروائی سے صحافیوں کو دور رکھا گیا ہے، متاثرہ جیو نیوز انتظامیہ کے حکام بھی عدالت کے باہر موجود رہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سینیئر صحافی حامد میر اور اس سے پہلے ان کے بھائی عامر میر نے حملے کی منصوبہ بندی کا الزام خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل پر عائد کیا تھا لیکن کمیشن کی جانب سے انھیں تاحال نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

حامد میر نے حملے کے بعد روزنامہ جنگ میں پہلا کالم تحریر کیا ہے۔ چھ گولیاں اور سات روز کے عنوان سے اس کالم میں انھوں نے لکھا ہے کہ تین روز کے بعد انھیں جب ہوش آیا تو انھوں نے سوچا کہ ان پر اندھا دھند گولیاں چلانے والے کا ان سے کیا اختلاف تھا؟

’پھر میں نے سوچا کہ اصل ملزم گولیاں چلانے والا نہیں بلکہ منصوبہ بندی کرنے والا ہے۔ منصوبہ بندی کرنے والے کئی چہرے میری آنکھوں کے سامنے لہرائے، میں اپریل کے پہلے دو ہفتوں کے واقعات کی روشنی میں کئی کہانیاں سناکر نفرتوں کے الاؤ بھڑکا سکتا ہوں۔ جس میں بہت کچھ جل سکتا ہے۔ لیکن پھر مجھ میں اور دہشت گردوں میں کیا فرق رہے جائے گا۔‘

حامد میر لکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے جیو ٹی وی کو سنہ 2002 میں غدار کہا آج وہ پھر جیو ٹی وی کو غدار کہہ رہے ہیں، ان کے پاس نہ کوئی ثبوت تھا اور نہ ہے، میں یہ معاملہ اپنے اللہ اور عدالتوں پر چھوڑتا ہوں۔

اسی بارے میں