’بیٹے کی یاد میں دیا جلاتی ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ماں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بیٹے کی تلاش میں کوئی در نہیں چھوڑا

کراچی شہر کی گنجان آبادی کے علاقے جٹ لائن کی تنگ گلیوں میں واقع اسی گز کے ایک گھر میں شام کو روزانہ دیا جلایا جاتا ہے۔ نسیم بیگم کی منت ہے کہ اس کا بیٹا خیریت سے واپس آ جائے۔ ان کے ایک بیٹے کی نوری آباد سے لاش ملی جبکہ ایک کو ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں گرفتار کیاگیا ہے۔

لواحقین کے مطابق چھبیس سالہ عبدالجبار آٹھ فروری کو پڑوسی کو لے کر جناح ہپستال گئے تھے جہاں سے لاپتہ ہوگئے۔ نسیم بیگم بتاتی ہیں کہ انھوں نے بیٹے کی تلاش میں کوئی عدالت، تھانہ اور رینجرز کی کوئی چوکی نہیں چھوڑی۔ وہ ملیر چھاؤنی تک ہو آئیں لیکن کسی نے بیٹے کا پتہ نہیں دیا۔

’بعد میں پتہ چلا کہ نوری آباد سے اس کی لاش ملی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ اس کو حیدرآباد میں دفنا بھی دیا، اس بات کو بھی بائیس روز ہوچکے تھے۔ جبار کی کسی سے دشمنی نہیں تھی وہ دل کا صاف بچہ تھا اگر کسی کو گالی دیتا یا ہاتھا پائی کرتا تو بعد میں اسے گلے لگا لیتا۔‘

جبار کی لاش کی شناخت فنگر پرنٹس کی مدد سے نادرا ریکارڈ سے ہوئی۔

پولیس کو کراچی سمیت کہیں سے بھی ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ملا۔ یہ سب تفصیلات تحریری صورت میں موجود ہے۔

جبار کی گمشدگی سے قبل رینجرز نے ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں اس کے چھوٹے بیٹے عنیب کو گرفتار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ملک کی تمام سیاسی جماعتیں تحفظ پاکستان کے قانون کے خلاف ہیں

جبار ڈینٹنگ پینٹنگ اور عنیب کباڑی کا کام کرتا تھا۔ اسی گز کے گھر میں تین بھائی اور والدہ رہتے ہیں۔

عنیب کو نوے روز تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت زیر حراست رکھنے کے بعد سینٹرل جیل بھیجاگیا ہے۔ جہاں چند روز قبل ان کی والدہ نے اس سے ملاقات کی۔ نیسم بیگم کے مطابق عنیب کو گرفتار کرکے اسلامیہ کالج لےگئے، جہاں انیس روز تک اس پر تشدد کیا گیا اور ناخن کھینچ لیے اس کے علاوہ ریڑھ کی ہڈی میں کرنٹ بھی لگائے گئے اور کئی روز بھوکا رکھا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کا سڑکوں اور ایوان میں احتجاج جاری ہے۔ ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران عبدالجبار سمیت پچیس کارکنوں اور ہمدردوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ پینسٹھ سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں عنیب سمیت پندرہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت زیرحراست رہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ایوان کے اندر اور باہر ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں ان کا موقف ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

ایم کیو ایم نے کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کی شکایت پاکستان انسانی حقوق کمیشن کو بھی کی ہے۔ تنظیم کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ گواہوں اور ثبوتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پولیس دوسرا راستہ اختیار کرتی ہے۔

’پولیس ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے سے جھجھکتی ہے، کیونکہ ان کا مقدمہ زیادہ تر کمزور ہوتا ہے اور وہ شواہد جمع نہیں کرتے۔ جن گواہوں کو وہ اکٹھے کرتے ہیں وہ گواہ عدالت میں جاکر اپنا بیان واپس لے لیتے ہیں اسی لیے پولیس سمجھتی ہے کہ عدالت کے ذریعے انہیں کامیابی نہیں ہوگی، اس لیے بہتر ہے کہ اس کو اسی جگہ ختم کر دیں۔‘

Image caption خدشہ ہے کہ نئے قانون کے بعد سیاسی کارکنوں کو بھی اٹھایا جا سکے گا

اقتدار سے اٹھارہ ماہ کی علیحدگی اور ٹارگٹڈ آپریشن کے چھ ماہ کے بعد متحدہ قومی نے دوبارہ حکومت میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم کی شکایتوں پر حکومت کئی وضاحتیں پیش کرچکی ہے، اب وہ اس حکومت میں شامل ہے جس کا وزیر اعلیٰ آپریشن کا بھی سربراہ ہے۔

ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ حکومت میں شمولیت کے بعد وہ پر امید ہیں کہ ان کی شنوائی ہوگی۔

’جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اگر سیاسی کارکنوں کی گرفتاری ہو رہی ہے، سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ان میں ایم کیو ایم کے کارکنان اور ہمدرد شامل ہیں، اس سے ہمارا ماتھا ٹھنکتا ہے، ہم نے عدالتوں کے دروازے کٹھکٹائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس جا رہے ہیں لیکن ریلیف نہیں مل رہا۔‘

فیصل کا کہنا تھا کہ چاہے وہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں۔ ان کی آج بھی یہ خواہش ہے کہ جو اپوزیشن کی دیگر جماعتیں ہیں ان میں سے بھی کسی کو شکایت ہے تو حکومت کا یہ اولین فرض ہے کہ ان کے شکوہ کو دور کرے۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی پرانی رپورٹس بتاتی ہیں کہ نوے کی دہائی میں بھی کراچی میں ماورائے عدالت ہلاکتیں ہوئیں، جس سے صورتحال میں کوئی زیادہ بہتری تو نہیں آئی لیکن سنگینی میں ضرور اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں